بسنت کبھی پنجاب سمیت برصغیر کے کئی علاقوں میں موسم بہار کی آمد کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ لوگ زرد لباس پہنتے، گھروں کی چھتوں پر جمع ہوتے اور آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتا۔ موسیقی، روایتی کھانے اور ثقافتی سرگرمیاں اس تہوار کا حصہ تھیں۔
لیکن جیسے جیسے وقت گزرا، اس تہوار میں غیر محفوظ رجحانات شامل ہوتے گئے۔ خطرناک ڈور، بے احتیاطی اور غیر قانونی سرگرمیوں نے بسنت کو ایک متنازع اور جان لیوا تہوار میں بدل دیا۔
کیمیکل ڈور، خاموش قاتل
پتنگ بازی میں استعمال ہونے والی کیمیکل لگی یا دھاتی ڈور سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ یہ ڈور اتنی تیز ہوتی ہے کہ موٹر سائیکل سواروں کی گردن تک کاٹ دیتی ہے۔ ہر سال کئی شہری حادثات کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ پرندوں کی بڑی تعداد بھی ہلاک ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ایسے حادثات میں زخم انتہائی گہرے ہوتے ہیں اور بعض اوقات فوری طبی امداد نہ ملنے سے جان بھی ضائع ہو جاتی ہے۔
سڑکوں پر حادثات اور شہری خطرات
بسنت کے دنوں میں سڑکوں پر حادثات میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار ڈور سے بچنے کے لیے خطرناک انداز میں گاڑی چلاتے ہیں۔ کئی شہروں میں شہریوں نے شکایت کی ہے کہ پتنگ بازی کے دوران لوگ ٹریفک قوانین کو نظرانداز کرتے ہیں، جس سے دیگر افراد بھی خطرے میں آ جاتے ہیں۔
چھتوں سے گرنے اور بجلی کے حادثات
ہر سال متعدد افراد پتنگ لوٹنے یا مقابلہ جیتنے کی کوشش میں چھتوں سے گر جاتے ہیں۔ بعض اوقات لوگ بجلی کی تاروں کے قریب پتنگ اڑاتے ہیں، جس سے کرنٹ لگنے کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔
بچوں کی بڑی تعداد بھی بغیر نگرانی کے چھتوں پر چڑھ جاتی ہے، جس سے حادثات کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
سماجی اور نفسیاتی پہلو
ماہرین سماجیات کے مطابق بسنت کی مقبولیت نوجوانوں میں مقابلہ بازی اور ایڈونچر کے رجحان سے جڑی ہوئی ہے۔ مگر جب تفریح خطرناک حد تک پہنچ جائے تو یہ معاشرتی مسئلہ بن جاتی ہے۔
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، جبکہ معاشرے کو بھی محفوظ تفریح کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔
قانونی اقدامات اور حکومتی پالیسی
پاکستان کے کئی شہروں میں خطرناک ڈور اور غیر قانونی پتنگ بازی پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ انسانی جان کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ تاہم بعض حلقے کہتے ہیں کہ مکمل پابندی کے بجائے محفوظ انداز میں بسنت منانے کی اجازت دی جائے۔
:ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ
خطرناک ڈور کی تیاری اور فروخت پر مکمل پابندی ہو
محفوظ زونز میں محدود سرگرمیوں کی اجازت دی جائے
شہریوں میں آگاہی مہم چلائی جائے
ماحولیات اور پرندوں پر اثرات
بسنت کے دوران ہزاروں پرندے ڈور میں پھنس کر زخمی یا ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق یہ رجحان شہری ماحول کے لیے نقصان دہ ہے اور حیاتیاتی توازن کو متاثر کرتا ہے۔
ذمہ داری کس کی؟
بسنت کے خطرات صرف حکومت یا شہریوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک مشترکہ سماجی ذمہ داری ہے۔
حکومت قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرے
میڈیا آگاہی پیدا کرے
والدین بچوں کی نگرانی کریں
شہری محفوظ تفریح کو ترجیح دیں
نتیجہ: خوشی محفوظ ہو تو ہی تہوار ہے
بسنت خوشیوں اور ثقافت کی علامت ضرور ہے، مگر اگر یہی خوشی کسی کی زندگی چھین لے تو اس پر نظرثانی ضروری ہے۔ اگر ہم احتیاط، ذمہ داری اور قانون کی پاسداری کو اپنا لیں تو شاید بسنت دوبارہ خوشیوں کا تہوار بن سکے۔ ورنہ یہ سوال ہمیشہ زندہ رہے گا، کیا بسنت واقعی خوشی ہے یا موت کا کھیل؟
