خیبر: خیبر امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں جاری دہشت گردی کسی اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کا شاخسانہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا پر ایک بار پھر دانستہ طور پر بدامنی مسلط کی جا رہی ہے، جس کے خلاف قبائلی عوام نے بروقت آواز بلند کی، تاہم افسوسناک طور پر اس پر مؤثر اور بروقت اقدامات نہیں کیے گئے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب دہشت گرد پہاڑی علاقوں میں موجود تھے تو متعلقہ اداروں کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا، مگر بروقت کارروائی نہ ہونے کے باعث وہ آبادیوں تک پہنچ گئے۔ بعد ازاں انہی حالات کو جواز بنا کر مختلف علاقوں میں فوجی آپریشنز شروع کیے گئے، جن کے نتیجے میں عام شہریوں کو بھاری جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ بعض علاقوں میں فضائی کارروائیوں کے دوران قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ قبائلی جرگوں کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد بے گناہ شہری تھے۔ وزیر اعلیٰ نے اس امر پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا کہ متاثرین کے نقصانات کو مؤثر انداز میں نہ تو اجاگر کیا گیا اور نہ ہی بروقت تدارک ممکن بنایا گیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ تیراہ سمیت مختلف قبائلی علاقوں میں شدید سردی اور برف باری کے دوران عوام کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، جسے بین الاقوامی میڈیا نے بھی نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔ بعد ازاں حکومتی وضاحتوں سے یہ تاثر سامنے آیا کہ نقل مکانی کے فیصلے پر ادارہ جاتی سطح پر سنجیدہ اختلافات موجود تھے۔

وزیر اعلیٰ نے یاد دلایا کہ ماضی میں ہونے والے آپریشنز کے دوران بھی قبائلی عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے، روزگار تباہ ہوا، مگر تاحال متعدد متاثرین کو مکمل معاوضہ نہیں مل سکا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ تیراہ متاثرین کے لیے مختص فنڈز کوئی احسان نہیں بلکہ عوام کا بنیادی حق ہیں، جن کی شفاف اور بروقت فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت محدود وسائل کے باوجود متاثرین کو ریلیف فراہم کر رہی ہے۔ رمضان المبارک کے پیش نظر وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ اور ٹیلی تھون کے ذریعے عوامی تعاون سے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے گا، جبکہ قبائلی متاثرین کے لیے ایک خصوصی ریلیف فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے انہیں ایک اہم اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جہاں وہ خیبر پختونخوا کے مالی اور آئینی حقوق کا بھرپور مقدمہ پیش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے واجب الادا اربوں روپے کے مالی وسائل کی عدم فراہمی سے عوامی مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

خطاب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ قبائلی اضلاع میں مشاورتی جرگوں کے انعقاد کے بعد متفقہ لائحہ عمل کے تحت اسلام آباد جا کر اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کی جائے گی۔ انہوں نے قبائلی عوام کے اتحاد، صبر اور تعاون کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ جدوجہد آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جاری رکھی جائے گی۔