معروف مذہبی اسکالر، سماجی شخصیت اور کالم نگار ڈاکٹر عبدالمھیمن کی پانچویں کتاب “بات شناسائی کی” کی تقریبِ رونمائی ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر منعقد ہوئی۔ یہ تقریب محض ایک کتاب کی رونمائی نہیں تھی بلکہ عورت کی عظمت، اس کے حقوق اور معاشرتی احترام کے حوالے سے ایک فکری و سماجی نشست تھی، جہاں صنفِ نازک کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ محرومیوں کے خاتمے کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔
تقریب کی صدارت نامور شاعرہ و مصنفہ فوزیہ تاج نے کی، جبکہ ممتاز قانون دان گل ناز رشید مہمانِ خصوصی تھیں۔ فروبیل اسکول کی پرنسپل میڈم صدف ثاقب نے میزبانی کے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شفیع اللہ گنڈا پور، دیگر سرکاری افسران، اساتذہ، وکلاء، صحافی، اقلیتی برادریوں اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے نمائندوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
“بات شناسائی کی” ڈاکٹر عبدالمھیمن کے کالموں کا مجموعہ ہے۔ کتاب کا عنوان معروف شاعرہ پروین شاکر کے ایک شعر سے اخذ کیا گیا ہے، جبکہ کتاب کا انتساب مصنف نے اپنی والدہ کے نام کرتے ہوئے لکھا:
"میری ماں کے نام، جو میری پہلی درسگاہ تھی اور جس نے مجھے عورت کی عزت کرنا سکھایا۔"
خواتین کے احترام اور ان کی نمائندگی کے اظہار کے لیے کتاب کے سرورق کو گلابی رنگ دیا گیا ہے، جبکہ اس کا پیش لفظ، تقریظ اور آخری بیرونی صفحہ بھی خواتین قلم کاروں نے تحریر کیا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمھیمن نے کہا کہ اس کتاب کی اشاعت کا مقصد معاشرے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کتاب کے ابتدائی دو کالم عورت کے “ناقص العقل” اور “ٹیڑھی پسلی” جیسے تصورات کی درست تشریح پیش کرتے ہیں تاکہ مذہبی تعلیمات کو اصل تناظر میں سمجھا جا سکے۔
کتاب کے پہلے کالم “کیا عورت کی عقل ناقص ہوتی ہے؟” میں مصنف لکھتے ہیں کہ حدیث میں عورت کی عقل کو مرد سے کمتر قرار نہیں دیا گیا، بلکہ “ناقص” سے مراد رعایت اور کمی ہے، نہ کہ خرابی۔ ان کے مطابق دین اور دنیا کے معاملات میں عورتوں کو بعض حوالوں سے سہولت اور رعایت دی گئی ہے، جسے غلط معنی پہنائے جاتے رہے ہیں۔
اسی طرح دوسرے اہم کالم “عورت کو سیدھا کرنا ممکن نہیں” میں ڈاکٹر عبدالمھیمن نے عورت کی فطری حساسیت اور جذباتی ساخت کو “ٹیڑھ پن” کی تعبیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد عورت کی نفسیاتی نزاکت ہے، نہ کہ کوئی منفی وصف۔ ان کے مطابق اگر مرد عورت کی فطرت کو سمجھے بغیر ردِعمل کی روش اختیار کرے تو ازدواجی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے عورت کی مثال محراب سے دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح محراب کو سیدھا کر دیا جائے تو وہ محراب نہیں رہتی، اسی طرح عورت کی فطری خصوصیات کو زبردستی بدلنے کی کوشش نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالمھیمن نے اپنے خطاب میں خواتین کے حقوق سے متعلق تشویشناک اعداد و شمار کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو تشدد، ہراسانی اور ناانصافی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریب کا مقصد محض کتاب پر داد وصول کرنا نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کو سماجی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہے تاکہ خواتین، خواجہ سرا برادری، مذہبی اقلیتوں اور دیگر محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جا سکے۔
ڈاکٹر عبدالمھیمن کی کتاب “بات شناسائی کی” محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا فکری آئینہ ہے جو ہمیں اپنے معاشرتی رویوں پر نظرِ ثانی کی دعوت دیتا ہے۔ ماؤں کے عالمی دن پر منعقد ہونے والی یہ تقریب اس عہد کی تجدید تھی کہ عورت کو صرف جذباتی وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے انسانی وقار، فطری نزاکت اور شرعی حقوق کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
یہ کتاب اور اس کی تقریبِ رونمائی اس پیغام کو اجاگر کرتی ہے کہ جب تک “ناقص” اور “ٹیڑھ پن” جیسی اصطلاحات کو صنفی امتیاز کے بجائے صنفی رعایت اور فطری فرق کے تناظر میں نہیں سمجھا جائے گا، معاشرتی توازن اور انصاف کا خواب ادھورا رہے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مساوات، احترام اور شعور کی بنیاد پر ایسے معاشرے کی تشکیل کی جائے جہاں کوئی بیٹی خوفزدہ نہ ہو، کوئی ماں محرومی کا شکار نہ رہے، اور ہر عورت کو وہ حقیقی “شناسائی” میسر آئے جس کی وہ حق دار ہے۔
