چیئرمینز اتحاد کے صدر احمد وزیر نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محکمہ زراعت جنوبی وزیرستان لوئر میں مبینہ بے ضابطگیوں، سیاسی مداخلت اور غیر شفاف طریقۂ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر ناصر خان کا یکم جنوری 2026 کو جنوبی وزیرستان لوئر تبادلہ کیا گیا تھا، تاہم وہ تاحال اپنی جائے تعیناتی پر حاضر نہیں ہوئے اور ایبٹ آباد سے ہی ریموٹ کنٹرول کے ذریعے امور چلا رہے ہیں۔
احمد وزیر کے مطابق جنوبی وزیرستان لوئر کی تقریباً 70 فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے، لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ متعلقہ محکمہ کا ذمہ دار افسر ضلع میں موجود نہیں، جس کے باعث مقامی کاشتکار حکومتی سہولیات اور زرعی منصوبوں سے مکمل فائدہ حاصل کرنے سے محروم ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ جنوبی وزیرستان لوئر کا دفترِ زراعت عملی طور پر پاکستان تحریک انصاف کے دفتر میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں عام زمینداروں کے بجائے پارٹی کارکنوں میں زرعی سامان تقسیم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ فراہم کیے گئے ٹنلز اور دیگر زرعی آلات بھی مبینہ طور پر پی ٹی آئی کارکنوں میں تقسیم کیے گئے، جبکہ موجودہ ورٹیکل فارمنگ منصوبے کا سامان بھی انہی افراد کو دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
احمد وزیر نے مزید دعویٰ کیا کہ مارچ کے آخر میں آنے والے پودے ناقص معیار کے تھے اور قابلِ کاشت نہیں تھے۔ ان کے مطابق محکمہ زراعت کے افسران کو بھی غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے، جس کے باعث محکمہ اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ تمام سامان پاکستان تحریک انصاف کے نومنتخب نمائندوں کی ذاتی ملکیت ہے تو وہ اسے اپنے کارکنوں میں تقسیم کریں، لیکن اگر یہ وسائل محکمہ زراعت اور صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں تو جنوبی وزیرستان لوئر کے تمام عوام کا اس پر برابر حق بنتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتی وسائل سیاسی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے بجائے حقیقی مستحقین تک پہنچائے جائیں۔
احمد وزیر نے یہ الزام بھی لگایا کہ پہلے مرحلے میں تقسیم کیا جانے والا زرعی سامان استعمال ہونے کے بجائے بازاروں میں فروخت کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وسائل کسی ایم این اے یا ایم پی اے کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی جانب سے عوامی فلاح کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر احمد وزیر نے ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر مسرت زمان، ڈائریکٹر جنرل زراعت، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی سے مطالبہ کیا کہ محکمہ زراعت کے ذمہ دار افسران کو فوری طور پر جنوبی وزیرستان لوئر میں تعینات کیا جائے اور مبینہ کرپشن و بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
