خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں معروف مذہبی شخصیت، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتمانزئی کے علاقے میں پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اچانک حملہ کر دیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے اور جیسے ہی مولانا ادریس وہاں پہنچے، ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی گئی۔ شدید زخمی حالت میں انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے ہی میں دم توڑ گئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ حملے کے وقت مولانا ادریس کے ہمراہ موجود دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ فائرنگ کی شدت کے باعث گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا اور شیشے ٹوٹ گئے۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، تاہم ان کی تلاش کے لیے چارسدہ اور پشاور کے ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
مولانا محمد ادریس کی وفات کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور فضا سوگوار ہو گئی۔ مقامی افراد نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔