جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل برمل کے علاقے اعظم ورسک میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ کے قریب ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں قریبی واقع آفتاب فلنگ اسٹیشن مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جبکہ عملے کے دو افراد سمیت متعدد شہری زخمی ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پٹرول پمپ کی چار دیواری، تقریباً 15 ہزار لیٹر ایندھن، فیول یونٹس، آٹھ کمرے، بجلی کا مکمل نظام، ٹرانسفارمر اور سولر سسٹم بری طرح متاثر ہو کر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ واقعے میں یار محمد سمیت عملے کے دو افراد زخمی ہوئے۔

فلنگ اسٹیشن کے مالک حاجی عبید اللہ انور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں انہیں ایک کروڑ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سانحہ ان کے لیے شدید صدمے کا باعث ہے کیونکہ ان کی تمام سرمایہ کاری اسی کاروبار سے وابستہ تھی، اور اب وہ اسے جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دھماکے کے وقت پمپ پر موجود متعدد گاڑیاں بھی تباہ یا شدید متاثر ہوئیں، جن میں نیر جان کی ویٹس گاڑی، ثواب دری خیل کی مزدا، خیر گل غلام خیل کی ڈاٹسن، جمشید کونڈاکائی کی فیلڈر سمیت دیگر گاڑیاں شامل ہیں۔

دھماکے کے اثرات قریبی علاقوں تک پھیل گئے، جس کے نتیجے میں عمران فلنگ اسٹیشن کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ مولانا اشرف الدین کا مدرسہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا، جہاں کئی طلبہ زخمی ہوئے ہیں۔

حاجی عبید اللہ انور نے حکومت خیبر پختونخوا اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ، چیف سیکرٹری، آئی جی ایف سی ساؤتھ، کمانڈنٹ ساؤتھ وزیرستان لوئر اسکاؤٹس، پی ڈی ایم اے اور ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر سے اپیل کی کہ اس مشکل وقت میں مالی معاونت فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار دوبارہ بحال کر سکیں۔

واضح رہے کہ اس خودکش حملے میں ایک شہری جاں بحق جبکہ پمپ کے دو مزدوروں سمیت مجموعی طور پر 15 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے، جبکہ دو شدید زخمیوں کو مزید بہتر طبی سہولیات کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کر دیا گیا۔