پاکستان میں بچوں کے حقوق پر گفتگو اکثر جذباتی نعروں، رسمی بیانات اور نمائشی تقریبات تک محدود رہتی ہے، مگر “پاکستان میں بچوں کی صورتحال رپورٹ 2025” ایک ایسی دستاویز ہے جو ہمیں تلخ زمینی حقائق کا سامنا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال (این سی آر سی) کی جانب سے جاری کی گئی یہ رپورٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات، حکومتی کارکردگی اور ہمارے سماجی رویوں کا واضح آئینہ ہے۔
یہ حقیقت حوصلہ افزا ضرور ہے کہ ملک میں بچوں کی شرحِ اموات میں کمی آئی، پولیو کیسز کم ہوئے اور لڑکیوں کی تعلیم میں نسبتی بہتری دیکھی گئی۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ رفتار ایک ایسے ملک کے لیے کافی ہے جہاں تقریباً نصف آبادی بچوں پر مشتمل ہو؟
جب 11 کروڑ سے زائد بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہو تو معمولی بہتری کو بڑی کامیابی قرار دینا شاید خود فریبی کے مترادف ہے۔
رپورٹ کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں اب بھی تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ صرف تعلیمی بحران نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی مستقبل اور سماجی استحکام کا مسئلہ بھی ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور چوتھے صنعتی انقلاب کی جانب بڑھ رہی ہے جبکہ ہمارے لاکھوں بچے بنیادی خواندگی سے بھی محروم ہیں۔ ایسے میں ترقی کے دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔
مزید افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ تعلیم پر سرکاری اخراجات جی ڈی پی کے صرف 0.8 فیصد تک محدود ہو چکے ہیں۔ یہ صرف مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ حکمران طبقات کی فکری ترجیحات کا عکاس بھی ہے۔ جو ریاست اپنے بچوں پر سرمایہ کاری نہیں کرتی، وہ دراصل اپنے مستقبل کو کمزور کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے 17 ہزار سے زائد واقعات اور 86 لاکھ بچوں کا چائلڈ لیبر میں ملوث ہونا محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی ناکامی کی علامت ہے۔ یہ مسئلہ صرف قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ اس پورے نظامِ انصاف، پولیس، سماجی ڈھانچے اور معاشی ناہمواری سے جڑا ہوا ہے جو بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
اگرچہ سندھ، پنجاب، اسلام آباد اور بلوچستان میں کم عمری کی شادی کے خلاف قوانین ایک مثبت پیش رفت ہیں، لیکن پاکستان میں قانون اور اس پر عملدرآمد کے درمیان فاصلہ ہمیشہ ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں بچیوں کی جبری شادیاں، ونی، سوارہ اور غربت کے باعث کم عمری میں نکاح آج بھی تلخ حقیقت ہیں۔ قانون اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب ریاست اس پر عملدرآمد کے لیے سیاسی عزم اور سماجی جرات بھی رکھتی ہو۔
رپورٹ کا ایک نسبتاً امید افزا پہلو بچوں کی “شمولیت” پر زور دینا ہے۔ پاکستان میں پہلی بار بچوں کی آواز کو پالیسی سازی کا حصہ بنانے کی سنجیدہ کوشش دکھائی دیتی ہے۔ پنجاب میں طلبہ قیادت کے انتخابات اور سپریم کورٹ کے بعض فیصلے اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ بچے صرف “فلاح” کے محتاج نہیں بلکہ اپنی رائے رکھنے والے بااختیار شہری بھی ہیں۔
تاہم یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی اور خاندانی نظام واقعی بچوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے؟
رپورٹ میں ڈیٹا اور “ریئل ٹائم ڈیش بورڈ” پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ بلاشبہ جدید دنیا میں درست اعداد و شمار پالیسی سازی کی بنیاد ہوتے ہیں، مگر پاکستان کا مسئلہ صرف ڈیٹا کی کمی نہیں بلکہ سیاسی ارادے، شفافیت اور پالیسی تسلسل کا فقدان بھی ہے۔ ہم رپورٹس تو شائع کرتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد اکثر فائلوں اور سیمیناروں تک محدود رہ جاتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ رپورٹ حکومتی ترجیحات تبدیل کر سکے گی؟
کیا بجٹ میں بچوں کے لیے وسائل بڑھائے جائیں گے؟
کیا اسکول سے باہر بچوں کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی ہوگی؟
کیا چائلڈ لیبر کے خلاف صنعتوں، مارکیٹوں اور گھریلو شعبوں میں حقیقی کارروائی ہوگی؟
یا پھر یہ رپورٹ بھی چند دن کی خبروں کے بعد سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن کر رہ جائے گی؟
پاکستان کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ بچوں پر مشتمل ہے۔ اگر یہ نسل غیر تعلیم یافتہ، غیر محفوظ، غذائی قلت کا شکار اور معاشی استحصال میں جکڑی رہی تو ملک کی جمہوریت، معیشت اور سماجی امن سب خطرے میں پڑ جائیں گے۔ بچوں کے حقوق محض انسانی ہمدردی کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال ہیں۔
این سی آر سی کی یہ رپورٹ یقیناً ایک اہم آغاز ہے، مگر اصل امتحان اب ریاست، سیاستدانوں، عدلیہ، میڈیا، والدین اور پورے معاشرے کے لیے ہے۔ کیونکہ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور بلند عمارتوں سے ترقی نہیں کرتیں؛ ان کی اصل ترقی اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کتنا محفوظ، تعلیم یافتہ اور بااختیار بناتی ہیں۔
