خیبرپختونخوا کی سرزمین صدیوں سے علمائے حق کی آماجگاہ رہی ہے، جہاں دینی مدارس نے نہ صرف مذہبی علوم کی ترویج کی بلکہ معاشرے کی فکری و اخلاقی تربیت میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ انہی درخشاں ناموں میں ایک نمایاں نام شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب کا ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت، تدریسِ حدیث اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر دی۔ ان کی حالیہ شہادت نے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ ہزاروں شاگردوں اور عقیدت مندوں کو غمزدہ کر دیا ہے۔
مولانا محمد ادریس 1961ء میں ضلع چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں ایک علمی و دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولوی حکیم عبدالحق، جو “مناظرِ اسلام” کے لقب سے جانے جاتے تھے، اپنے وقت کے جید عالم اور خطیب تھے۔ اسی طرح ان کے دادا شیخ الحدیث مفتی شہزادہ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے، جبکہ پردادا شیخ مولانا محمد اسماعیل نے بھی دینی علوم کی تدریس میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ یوں مولانا ادریس کو بچپن ہی سے ایک ایسا ماحول میسر آیا جہاں علم، تقویٰ اور تحقیق کو زندگی کا محور سمجھا جاتا تھا۔
انہوں نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے گھر ہی میں حاصل کی اور پھر دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی سے باقاعدہ درسِ نظامی مکمل کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک گئے، جہاں انہیں اپنے وقت کے ممتاز اساتذہ جیسے شیخ الحدیث مولانا عبدالحق اکوڑوی، مولانا مفتی محمد فرید، مولانا عبدالحلیم زروبوی اور مولانا فضل الٰہی شاہ منصوری کی شاگردی نصیب ہوئی۔ یہاں انہوں نے علمِ حدیث میں خاص مہارت حاصل کی، جو بعد ازاں ان کی پہچان بنی۔ ساتھ ہی انہوں نے جامعہ پشاور سے عربی اور اسلامیات میں ایم اے کیا، جس سے ان کی علمی وسعت میں مزید اضافہ ہوا۔تدریس کے میدان میں مولانا ادریس صاحب کی خدمات قابلِ رشک ہیں۔
انہوں نے 1983ء میں جامعہ نعمانیہ سے تدریسی سفر کا آغاز کیا اور جلد ہی درسِ حدیث کے ممتاز اساتذہ میں شمار ہونے لگے۔ دارالعلوم اسلامیہ تنگی میں نو سال تک دورۂ حدیث پڑھانے کے دوران انہوں نے بے شمار طلبہ کو صحیح بخاری، جامع ترمذی اور دیگر کتبِ حدیث کی گہری سمجھ عطا کی۔ ان کا اندازِ تدریس سادہ مگر مؤثر تھا، جس میں مشکل علمی نکات کو بھی آسان انداز میں بیان کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے حلقۂ درس میں ہر سال ہزاروں طلبہ شریک ہوتے اور علمِ حدیث سے فیضیاب ہوتے۔
2013ء کے بعد وہ دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی میں شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کے منصب پر فائز رہے۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف تدریسی نظام کو مضبوط کیا بلکہ ادارے کی علمی و انتظامی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ دارالعلوم حقانیہ میں بھی ان کے دروسِ بخاری و ترمذی کو خاص اہمیت حاصل رہی، جہاں طلبہ ان کی علمی گہرائی اور تدریسی مہارت سے بھرپور استفادہ کرتے تھے۔
سیاسی میدان میں بھی مولانا ادریس صاحب نے فعال کردار ادا کیا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) سے وابستگی کے تحت وہ ضلعی امیر چارسدہ، صوبائی سرپرستِ اعلیٰ اور مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن رہے۔ 2002ء سے 2007ء تک خیبرپختونخوا اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے عوامی مسائل کے حل، دینی اقدار کے فروغ اور تعلیمی بہتری کے لیے آواز اٹھائی۔ تاہم ان کی سیاست میں بھی اعتدال، شائستگی اور اصول پسندی نمایاں رہی۔
ذاتی زندگی میں وہ نہایت سادہ مزاج، منکسر المزاج اور طلبہ کے لیے ایک شفیق استاد تھے۔ ان کا تعلق ایک معزز علمی خانوادے سے ہونے کے ساتھ ساتھ وہ معروف عالمِ دین مولانا محمد حسن جان مدنی کے داماد بھی تھے۔ ان کے دو بیٹے ہیں، جن میں سے ایک دینی تعلیم سے وابستہ ہے جبکہ دوسرا شعبہ طب میں خدمات انجام دے رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے دینی و عصری تعلیم دونوں کی اہمیت کو سمجھا اور فروغ دیا۔5 مئی 2026ء کو ان کی شہادت ایک ایسا سانحہ ہے جس نے پورے خطے کو سوگوار کر دیا۔ ان کی زندگی علم، عمل اور اعتدال کا ایک حسین امتزاج تھی۔ وہ نہ صرف ایک استاد تھے بلکہ ایک مصلح، رہنما اور ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنے شاگردوں کی علمی و اخلاقی تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
آج جب ہم مولانا محمد ادریس صاحب کو یاد کرتے ہیں تو ان کی خدمات ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ ان کی علمی وراثت، ان کے شاگرد اور ان کا چھوڑا ہوا فکری سرمایہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ کردار، عمل اور معاشرے کی اصلاح کے ذریعے ہی اپنی اصل روح کو پاتا ہے۔
