خیبرپختونخوا گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جدوجہد کا مرکز رہا ہے۔ 2000 کی دہائی کے وسط سے لے کر بعد کے برسوں تک اس خطے نے شدت پسند تنظیموں کے عروج، خودکش حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور ریاستی آپریشنز کا سامنا کیا۔ مختلف فوجی کارروائیوں اور سیکیورٹی اقدامات کے بعد اگرچہ صورتحال میں کسی حد تک بہتری آئی، مگر مکمل استحکام کبھی حاصل نہ ہو سکا۔ سرحدی جغرافیہ، قبائلی اضلاع کی حساسیت اور علاقائی سیکیورٹی چیلنجز نے اس خطے کو مسلسل غیر یقینی کی کیفیت میں رکھا۔
حالیہ برسوں میں ایک بار پھر شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے ماضی کی تلخ یادوں کو تازہ کر دیا ہے۔ خاص طور پر مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانے کے واقعات نے اس صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔
خیبرپختونخوا ایک بار پھر خوف، بے یقینی اور خونریزی کی لپیٹ میں ہے۔ حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے واقعات نے نہ صرف عوامی سطح پر تشویش میں اضافہ کیا ہے بلکہ سیکیورٹی صورتحال پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ متعدد مذہبی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں تازہ ترین واقعہ مولانا محمد ادریس کی شہادت ہے، جنہیں چارسدہ میں نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔
پولیس حکام کے مطابق یہ ایک منصوبہ بند ٹارگٹ کلنگ تھی، جس میں موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی تحقیقات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا حملہ تھا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی کئی علما کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ مولانا خانزیب کو 10 جولائی 2025 میں باجوڑ میں شہید کیا گیا، جو امن اور اعتدال پسندی کے داعی سمجھے جاتے تھے۔ اسی طرح 15 مارچ 2025 کو مولانا منیر شاکر ایک خودکش حملے میں اس وقت شہید ہوئے جب وہ مدرسے سے گھر جا رہے تھے۔
تشویشناک پہلو یہ ہے کہ صرف افراد ہی نہیں بلکہ مذہبی ادارے بھی محفوظ نہیں رہے۔ 28 فروری 2025 میں دارالعلوم حقانیہ پر ہونے والے خودکش حملے میں اہم مذہبی رہنما مولانا حمید الحق حقانی شہید ہوئے۔ یہ واقعات واضح کرتے ہیں کہ نشانہ صرف شخصیات نہیں بلکہ ایک مخصوص سوچ، اثر و رسوخ اور سماجی کردار ہے۔
سال 2026 میں پاکستان، بالخصوص خیبرپختونخوا، دہشتگردی کے مختلف واقعات جیسے حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہیں۔
ان حملوں کا دائرہ کار صرف سیکیورٹی فورسز تک محدود نہیں رہا بلکہ علما، سیاسی شخصیات اور عام شہری بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان واقعات کی کئی ممکنہ وجوہات ہیں۔ سب سے نمایاں وجہ انتہاپسند گروہوں کی جانب سے ایسے علماء کو نشانہ بنانا ہے جو شدت پسند نظریات کی مخالفت کرتے ہیں یا امن اور رواداری کی بات کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ فرقہ وارانہ اور نظریاتی اختلافات بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب کوئی مذہبی رہنما عوام میں اثر و رسوخ رکھتا ہو۔ بعض صورتوں میں علما کا سیاسی اور سماجی کردار بھی انہیں خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ مزید برآں، صوبے میں امن و امان کی کمزور صورتحال بھی ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی ایک بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے۔
ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ہر واقعے میں ذمہ داری قبول نہیں کی جاتی۔ بعض حملوں کی ذمہ داری شدت پسند گروہ قبول کرتے ہیں، لیکن کئی کیسز میں حملہ آور "نامعلوم افراد" ہی رہتے ہیں اور تحقیقات طویل ہو جاتی ہیں۔ یہ اصطلاح اب خود ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
ہر واقعے کے بعد مذمتی بیانات، اعلانات اور وعدے ضرور سامنے آتے ہیں، مگر زمینی حقائق میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آتی۔ یہ سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ہم صرف ردِعمل تک محدود ہیں یا واقعی مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے؟
یہ معاملہ محض چند افراد تک محدود نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کا مسئلہ ہے، جہاں علم اور اعتدال کے نمائندہ چراغ ایک ایک کر کے بجھائے جا رہے ہیں۔ اگر ان واقعات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف مذہبی طبقے بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
