وادی تیراہ کے علاقے اپر باڑہ میں درختوں کے سائے اور کھنڈرات کے درمیان کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے والے تقریباً پانچ سو طلبہ و طالبات گزشتہ چار برسوں سے بنیادی تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔ ان بچوں کے لیے نہ کوئی سرکاری عمارت موجود ہے، نہ بیٹھنے کے مناسب انتظامات، اور نہ ہی کتب و بستوں جیسی ضروری اشیاء دستیاب ہیں۔
یومِ والدین کی تقریبات کے موقع پر مقامی مشران، خدمتِ خلق ویلفیئر سوسائٹی اور سکولوں کے طلبہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی اور ایم پی اے عبدالغنی آفریدی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور بچوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔
اپر باڑہ کے علاقوں ننگروسہ، کنڈاو جماعت، سندانہ، سپین درند، شیخ ملی اور درے وانڈی کلے میں واقع سکولوں میں سالانہ امتحانات کے بعد یومِ والدین کی تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں سماجی رہنماؤں، مقامی عمائدین، والدین، اساتذہ اور طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر بچوں نے قومی ترانہ، ملی نغمے، تقاریر، نظمیں اور مزاحیہ خاکے پیش کیے، جبکہ مقامی شعراء نے تعلیم کی اہمیت پر کلام پیش کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اساتذہ کی خدمات کو سراہا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ تاہم، انہوں نے اس امر پر شدید افسوس کا اظہار کیا کہ چار سال گزرنے کے باوجود سرکاری سطح پر ان بچوں کو کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی، جبکہ اساتذہ کو بھی نہایت قلیل معاوضہ دیا جا رہا ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے، مگر بدقسمتی سے ان علاقوں کے پانچ سو سے زائد بچے اس حق سے محروم ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ اب تک ان سکولوں کے لیے ایک بھی فیبریکیٹڈ کمرہ فراہم نہیں کیا گیا، حالانکہ باڑہ کے دیگر علاقوں میں پچاس سے زائد ایسے سکول موجود ہیں جہاں یہ سہولت غیر استعمال شدہ پڑی ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، ایم پی اے و ڈیڈک چیئرمین عبدالغنی آفریدی، ڈپٹی کمشنر خیبر، بریگیڈ کمانڈر تور درہ 165 ونگ، غیر سرکاری تنظیموں اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر ان بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ مطالبات میں مستقل سکول عمارتوں کی تعمیر، فرنیچر کی فراہمی، اساتذہ کی تنخواہوں کا باقاعدہ نظام، اور طلبہ کو مفت کتب و بستے فراہم کرنا شامل ہیں۔
تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں خدمتِ خلق ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے شیلڈز اور ٹرافیاں تقسیم کی گئیں، جبکہ ڈاکٹر حیدر آفریدی نے باقاعدہ حاضری یقینی بنانے والے طلبہ کے لیے نقد انعامات کا اعلان بھی کیا۔
