3 مئی کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی عالمی یومِ آزادی صحافت منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد صحافت کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور اس شعبے کو درپیش چیلنجز پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہر سال منایا جاتا ہے، جس کے ذریعے آزادیٔ اظہار، ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے شعور بیدار کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں اس دن کے موقع پر مختلف شہروں میں سیمینارز، ورکشاپس اور تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جہاں ماہرین، صحافیوں اور طلبہ کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔ ان تقریبات میں آزادی صحافت کی موجودہ صورتحال، ڈیجیٹل میڈیا کے اثرات، فیک نیوز اور صحافیوں کو درپیش خطرات جیسے اہم موضوعات زیر بحث لائے جا رہے ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ "سچائی کے بغیر امن ممکن نہیں" اور ایک آزاد و خودمختار میڈیا جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈس انفارمیشن اور جھوٹی خبروں کا بڑھتا ہوا رجحان جمہوری مکالمے کو مسخ کر رہا ہے، جس کے تدارک کے لیے ذمہ دارانہ صحافت ناگزیر ہے۔
صدر نے مزید کہا کہ حکومت صحافیوں کے تحفظ، آزادی اظہار کے فروغ اور میڈیا کے اداروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے صحافی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ سچ کی تلاش میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناگزیر ہیں۔
دوسری جانب صحافت کے شعبے میں بہتری اور صحافیوں کی فلاح کے لیے مختلف تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ اسی سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے صحافیوں کے لیے بلاسود قرض اسکیم متعارف کرانے کی ہدایت کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد میڈیا ورکرز کو معاشی طور پر مستحکم بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق، موجودہ دور میں جہاں ڈیجیٹل میڈیا نے معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے، وہیں غلط معلومات کے پھیلاؤ نے صحافت کے معیار کو چیلنج بھی کیا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ صحافی پیشہ ورانہ اصولوں کی پابندی کریں اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو یقینی بنائیں۔
عالمی یومِ آزادی صحافت اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ میڈیا کو آزاد، خودمختار اور ذمہ دار بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ سچائی اور شفافیت پر مبنی معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے۔