پاک افغان سرحدی گزرگاہ طورخم کی مسلسل بندش کے باعث قومی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ نوجوان طبقہ بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہے۔ دونوں ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ طورخم سرحد کو فوری طور پر کھولنے کے لیے سنجیدہ اور ہنگامی اقدامات کریں۔
یہ باتیں جمعیت علمائے اسلام (ف) لنڈیکوتل کے قائم مقام امیر سید محمد احمد بنوری المعروف باچاجی، جنرل سیکرٹری مولانا عظیم شاہ، قاری نظیم گل، سیکرٹری اطلاعات قاضی عبدالقادر، مولانا وقار احمد، مفتی مکمیل شاہ اور مولانا رحمت اللہ نے لنڈیکوتل پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ طورخم سرحدی گزرگاہ گزشتہ سات ماہ سے بند ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے بلکہ تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز اور سرحدی علاقوں میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور بھی شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وطن واپس آنے والے افغان شہریوں کو بھی متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ ان کی گاڑیاں ہفتوں تک پاک افغان شاہراہ پر کھڑی رہتی ہیں، جس کے باعث خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید پریشانی اور تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ افغان شہریوں کی کلیئرنس کے عمل کو تیز اور مؤثر بنایا جائے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے افغانستان میں پھنسے پاکستانی ڈرائیورز اور ان کی گاڑیوں کی فوری واپسی کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔
آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ کیا گیا تو وہ دیگر سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک شروع کریں گے، جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی۔
