اسلام آباد ٹریفک پولیس نے شہریوں کی سہولت اور سیکیورٹی انتظامات کے پیش نظر 9 اور 10 اپریل 2026 کو وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک کے لیے خصوصی ڈائیورشن پلان جاری کر دیا ہے۔ ترجمان اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق مختلف اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستے مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل جاری کردہ ٹریفک روٹس کو مدنظر رکھیں۔

جاری کردہ پلان کے مطابق جی ٹی روڈ سے راولپنڈی کی جانب آنے والی بھاری ٹریفک کو موٹر وے، چکری اور چک بیلیاں روڈ سمیت دیگر متبادل راستے استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسی طرح جی ٹی روڈ سے پشاور جانے والی گاڑیوں کو بھی چک بیلیاں روڈ اور چکری کے راستے اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز اور اہم شاہراہوں کے لیے بھی خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ایف-6، جی-6 اور جی-5 سے راولپنڈی جانے والے شہریوں کو 9ویں ایونیو استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ آنے والی ٹریفک کو بھی 9ویں ایونیو کی جانب موڑ دیا جائے گا۔

اسی طرح بہارہ کہو سے راولپنڈی جانے والی گاڑیوں کو کورنگ روڈ یا قائداعظم روڈ استعمال کرنے کا کہا گیا ہے۔ راولپنڈی سے اسلام آباد مری روڈ کے ذریعے آنے والی ٹریفک کو بھی 9ویں ایونیو سے گزرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ٹریفک پولیس کے مطابق زیرو پوائنٹ سے فیصل ایونیو اور کنونشن سینٹر کی طرف آنے والی ٹریفک کو مخصوص مقامات تک محدود رکھا جائے گا، جبکہ کرنل شیر خان روڈ سے فیض آباد آنے والے شہریوں کو اسٹیڈیم روڈ اور 9ویں ایونیو کے راستے سفر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ پشاور سے لاہور جانے والی ٹریفک کو موٹر وے اور ترنول پھاٹک سے فتح جنگ موڑ کے راستے جانے کا کہا گیا ہے، جبکہ لاہور سے اسلام آباد اور راولپنڈی آنے والی گاڑیوں کو چکری اور چک بیلیاں روڈ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق 9 اور 10 اپریل کے دوران ہر قسم کی بھاری ٹریفک کے اسلام آباد میں داخلے پر پابندی ہوگی جبکہ ریڈ زون کے بعض راستے عام ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رہیں گے۔

ترجمان کے مطابق شہریوں کو ٹریفک کی تازہ صورتحال سے آگاہ رکھنے کے لیے ایف ایم ریڈیو 92.4، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے مسلسل اپ ڈیٹس فراہم کی جائیں گی۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ٹریفک پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور مقررہ متبادل راستے اختیار کریں۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اہم سفارتی مذاکرات کے پیش نظر دارالحکومت میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ شہری انتظامیہ نے اس موقع پر اسلام آباد میں دو روزہ تعطیل کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔

پاکستان کی کوششوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات کی دعوت دی تھی۔

امریکہ اور ایران دونوں نے تصدیق کی ہے کہ ان کے وفود پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی مذاکرات کے لیے ایک خصوصی وفد پاکستان بھیجنے کی تصدیق کی ہے، جو جمعرات کی شب اسلام آباد پہنچے گا۔