چیف خطیب خیبر پختونخوا مولانا محمد طیب قریشی نے افغان وزیر خارجہ کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

انہوں نے اس بیان کو دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیا۔

چیف خطیب نے کہا کہ سرحد پار سے بعض بیانات جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغان وزیر خارجہ کے بیان کے بعد پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ ختم ہوگا اور مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور پاکستانی قوم نے افغان عوام کا ہمیشہ ساتھ دیا اور اپنی اسلامی و قومی روایات کے مطابق ان کی میزبانی کی، جس کا اعتراف عالمی برادری بھی کر چکی ہے۔

چیف خطیب نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ امن کے مواقع ضائع نہ کرے اور خطے میں پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے تحفظات دور کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے سب سے زیادہ ضرورت افغانستان کو ہے، جو دہشت گردی اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ افغانستان انہی مسائل سے نجات پا سکتا ہے جب وہاں پائیدار امن قائم ہوگا اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

چیف خطیب نے ایران۔اسرائیل جنگ میں پاکستانی قیادت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ہر پاکستانی کو اپنے ملک اور افواج پر فخر ہونا چاہیے، جن کے فیصلوں سے پاکستان عالمی سیاست میں اہمیت حاصل کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب اسلام آباد نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کا دارالحکومت کہلائے گا