لنڈی کوتل کے سنگین عوامی مسائل پر خیبر سیاسی اتحاد کے زیرِ اہتمام ریلوے اسٹیشن گراؤنڈ لنڈی کوتل میں ایک بڑے عوامی جرگہ کا انعقاد کیا گیا، جس میں سیاسی و سماجی کارکنان، قبائلی مشران، بلدیاتی نمائندوں اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جرگہ کا عنوان “لنڈی کوتل کے مسائل اور ان کا حل” رکھا گیا تھا۔

جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے خیبر سیاسی اتحاد کے صدر مراد حسین آفریدی اور دیگر مقررین نے کہا کہ لنڈی کوتل کے مسائل انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔ پاک افغان سرحد طورخم کی طویل بندش کے باعث لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں، جس سے علاقے میں غربت، بے چینی اور معاشی بدحالی میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔

مقررین نے ہیڈکوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل کی ناگفتہ بہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور معمولی مریضوں کو بھی ریفر کرنا معمول بن چکا ہے۔ زکام، کھانسی اور بخار کے علاوہ دیگر بیماریوں کا علاج ممکن نہ ہونا عوام کے لیے شدید اذیت کا باعث ہے۔

جرگہ میں تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی شدید کمی پر بھی گہری تشویش ظاہر کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ جدید دور میں بھی بچے سکولوں میں ٹاٹ پر بیٹھنے پر مجبور ہیں، جس سے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ سہولیات اور اساتذہ کی کمی نوجوان نسل کو منفی سرگرمیوں کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

پینے کے صاف پانی کے مسئلے کو جرگہ میں انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پورے تحصیل میں صاف پانی کی قلت شدت اختیار کر چکی ہے۔ خواتین کئی کئی کلومیٹر دور سے سروں پر پانی لانے پر مجبور ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

جرگہ کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں ترقیاتی منصوبے اجتماعی بنیادوں پر شروع کیے جائیں تاکہ عوام کو دیرپا اور مجموعی فائدہ حاصل ہو۔ مقررین نے اعلان کیا کہ لنڈی کوتل کے مسائل کے حل کے لیے جلد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے ملاقات کی جائے گی اور انہیں علاقے کے زمینی حقائق سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے گا۔

جرگہ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور احساس پروگرام میں بدانتظامی پر بھی شدید تنقید کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور مستحقین کو بروقت امداد فراہم کی جائے۔