جمرود: فاٹا لویہ جرگہ کابینہ اور کمیٹی مشران کا ایک اہم اجلاس آج جمرود میں شاہ کس ملک بسم اللہ آفریدی قبائلی کے حجرے میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت فاٹا لویہ جرگہ کے صدر ملک بسم اللہ خان قبائلی نے کی۔ اجلاس میں جنرل سیکریٹری محمد اعظم محسود، ملک خان مرجان وزیر، نوابزادہ فضل کریم، ملک عبدالرزاق، ملک فضل الرحمان، ملک ولایت شاہ، ملک جاوید شاہ محسود، حاجی ایرات، پرنسپل نورزمان، فنانس سیکریٹری حاجی حنیف سمیت بڑی تعداد میں قبائلی مشران نے شرکت کی۔
اجلاس میں وادی تیراہ میں مبینہ آپریشن کے نتیجے میں ہونے والی جبری نقل مکانی، متاثرین کو درپیش سنگین انسانی مسائل اور حکومتی کارکردگی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے صوبائی اور وفاقی حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر صوبائی حکومت آپریشن سے لاعلم تھی تو چار ارب روپے کی منظوری کس بنیاد پر دی گئی، اور اگر دونوں حکومتیں انکاری ہیں تو یہ آپریشن کون کر رہا ہے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں۔
جرگہ مشران نے کہا کہ شدید برفباری کے دوران جبری نقل مکانی کے باعث تیراہ کے عوام کو ناقابلِ بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ راستوں کی بندش اور خراب موسمی حالات کے سبب کئی معصوم بچے جان کی بازی ہار گئے، سینکڑوں افراد بیمار ہوئے جبکہ متعدد خاندان راستوں میں پھنسے رہے۔ جرگہ نے ان اموات پر ذمہ دار حکومتی اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں صوبائی حکومت اور پی ڈی ایم اے پر سنگین غفلت کے الزامات عائد کیے گئے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اے موسم کی پیشگی وارننگ اور حفاظتی اقدامات میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ مطالبہ کیا گیا کہ غفلت میں ملوث افسران اور ذمہ دار وزراء کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ریلیف میں کوتاہی برتنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔
فاٹا انضمام کے حوالے سے اجلاس میں متفقہ طور پر پانچ قراردادیں منظور کی گئیں، جن میں فاٹا کو نائن الیون سے پہلے کی حیثیت میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ انضمام قبائلی عوام پر زبردستی مسلط کیا گیا ہے۔ جرگہ نے پٹواری اور پولیس نظام کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے قبائلی رسم و رواج کی بحالی کا مطالبہ کیا اور عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے کو جلد نمٹانے پر زور دیا۔ اجلاس میں تیراہ کے لیے قائم 24 رکنی کمیٹی کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سے تمام معاہدوں پر عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
فاٹا لویہ جرگہ کے صدر ملک بسم اللہ آفریدی نے محسود وزیرستان کی جانب سے پشاور میں متوقع دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس میں طورخم بارڈر کو فوری طور پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ بارڈر بندش کے باعث ہزاروں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں، جس پر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو فوری عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔
آخر میں صدر فاٹا لویہ جرگہ ملک بسم اللہ آفریدی نے سپریم کونسل اور کابینہ کے اراکین کو اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے ادا کرنے کی ہدایت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈیڑھ کروڑ قبائلی عوام کی سابقہ حیثیت بحال کرتے ہوئے فاٹا کو نائن الیون سے پہلے کی پوزیشن پر واپس لایا جائے۔
