پاکستان میں نکاح رجسٹریشن کو قانونی تحفظ اور سماجی استحکام کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، تاہم عملی سطح پر اس نظام کو متعدد انتظامی، قانونی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہے۔ بالخصوص خیبر پختونخوا جیسے صوبوں میں، جہاں روایتی طریقۂ کار اور کمزور نگرانی کے باعث کم عمری کی شادیوں، غیر رجسٹرڈ نکاح اور قانونی پیچیدگیوں کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ ان مسائل کے تناظر میں نکاح رجسٹریشن سے وابستہ کلیدی کرداروں اور نکاح رجسٹرارز، نکاح خواں اور ویلج کونسل سیکریٹریز کی صلاحیت، آگاہی اور ذمہ داریوں کا جائزہ لینا ناگزیر تھا۔ اسی ضرورت کے تحت یہ مطالعاتی جائزہ ترتیب دیا گیا تاکہ زمینی حقائق کی روشنی میں پالیسی اصلاحات اور مؤثر اقدامات کی راہ ہموار کی جا سکے۔
نکاح رجسٹریشن کو پاکستان میں قانونی تحفظ، خاندانی استحکام اور خواتین و بچوں کے حقوق کے تحفظ کا بنیادی ستون قرار دیا جاتا ہے، مگر خیبر پختونخوا میں اس نظام پر کی گئی ایک جامع تحقیق نے اس دعوے کی عملی حقیقت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تحقیق میں سامنے آنے والے نتائج کے مطابق قانونی آگاہی کی کمی، ناکافی تربیت اور کمزور نگرانی کے باعث نکاح رجسٹریشن کا نظام مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
یہ مطالعاتی جائزہ صوبے کے تین اضلاع ہری پور، نوشہرہ اور صوابی میں کیا گیا، جس میں مجموعی طور پر 575 افراد نے حصہ لیا۔ شرکاء میں 323 نکاح رجسٹرارز، 109 نکاح خواں اور 143 ویلج کونسل سیکریٹریز شامل تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ نمونہ صوبے میں نکاح رجسٹریشن کے نظام کی ایک واضح اور قابلِ اعتماد تصویر پیش کرتا ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق اگرچہ زیادہ تر نکاح رجسٹرارز پانچ سال یا اس سے زائد تجربہ رکھتے ہیں، تاہم قانونی فریم ورک اور ذمہ داریوں سے لاعلمی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 87 فیصد نکاح رجسٹرارز اپنے لائسنس کی مدت، اختیارات اور قانونی تقاضوں سے مکمل طور پر آگاہ نہیں۔ اس لاعلمی کا براہِ راست اثر کم عمری کی شادیوں کی روک تھام پر بھی پڑ رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق صرف 16 فیصد رجسٹرارز نے کم عمری کی شادیوں سے انکار کیا، لیکن ان میں سے بھی محض 22 فیصد کیسز سرکاری سطح پر رپورٹ کیے گئے۔
نکاح خواں کے حوالے سے صورتحال مزید تشویشناک قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف 8 فیصد نکاح خواں کو نکاح کے قانونی تقاضوں پر کسی قسم کی باضابطہ تربیت حاصل ہے۔ اگرچہ 48 فیصد نکاح سے قبل دستاویزات کی تصدیق کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تاہم 94 فیصد نکاح خواں نے عمر کی بنیاد پر کبھی نکاح سے انکار نہیں کیا۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تھیلیسیمیا ٹیسٹ جیسے اہم طبی تقاضے کو بیشتر علاقوں میں سماجی سطح پر قبولیت حاصل نہیں، جس کے باعث اس قانون پر عملدرآمد تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ویلج کونسل سیکریٹریز اگرچہ عمومی طور پر شادی کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرتے ہیں، لیکن واضح رہنما اصولوں، معیاری طریقہ کار ایس او پیز اور باقاعدہ تربیت کی کمی کے باعث وہ مؤثر نگرانی کا کردار ادا نہیں کر پا رہے۔ بعض اضلاع میں ریکارڈ کی جانچ محض رسمی کارروائی تک محدود پائی گئی۔
سماجی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نکاح رجسٹریشن میں موجود یہ خامیاں کم عمری کی شادیوں، خواتین کے قانونی حقوق کی پامالی اور خاندانی تنازعات میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ ان کے مطابق جب نکاح قانونی تقاضوں کے مطابق رجسٹر نہ ہو تو وراثت، نان نفقہ اور طلاق جیسے معاملات میں خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تحقیقی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ نکاح رجسٹریشن کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے قانونی آگاہی میں فوری اضافہ، نکاح رجسٹرارز اور نکاح خواں کے لیے باقاعدہ اور لازمی تربیت، معیاری فیس اسٹرکچر، شفاف تعیناتی کا نظام اور سخت مانیٹرنگ میکانزم نافذ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کم عمری کی شادیوں کی رپورٹنگ کو لازمی اور قابلِ سزا جرم بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو نکاح رجسٹریشن کا کمزور نظام نہ صرف سماجی مسائل میں اضافے کا باعث بنے گا بلکہ قانونی اور انتظامی بحران کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ یہ تحقیقی رپورٹ حکومتی اداروں کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے کہ نکاح جیسے حساس اور اہم قانونی عمل کو نظرانداز کرنے کے نتائج دور رس اور نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
