راولپنڈی اور اسلام آباد میٹرو بس سروس کو جڑواں شہروں کے شہریوں کے لیے ایک اہم اور تیز ترین سفری سہولت قرار دیا جاتا ہے، تاہم روزانہ اس سروس سے استفادہ کرنے والے مسافروں، خصوصاً خواتین، بچوں کے ساتھ سفر کرنے والی ماؤں اور بزرگ شہریوں کو متعدد مسائل کا سامنا ہے، جو اس سہولت کو بعض اوقات شدید آزمائش میں بدل دیتے ہیں۔

مسافروں کے مطابق میٹرو بس اسٹیشنز پر خواتین کے لیے علیحدہ قطاروں کا نظام موجود ہے اور عمومی طور پر اس پر عملدرآمد بھی کیا جاتا ہے، لیکن سب سے بڑا مسئلہ بسوں کا مقررہ وقت پر نہ آنا ہے۔ خاص طور پر صبح اور شام کے اوقاتِ رش میں بسوں کے درمیان وقفہ بڑھ جانے کے باعث پلیٹ فارمز پر شدید ہجوم جمع ہو جاتا ہے، جس سے طلبہ، خواتین، بزرگ اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

نمل یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم طالبات نمرہ اور شازیہ کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی کلاس کے وقت سے کم از کم آدھا گھنٹہ پہلے گھر سے نکلنا پڑتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے وہ دس یا پندرہ منٹ بھی تاخیر کا شکار ہو جائیں تو بس کے دیر سے آنے کے باعث بروقت یونیورسٹی پہنچنا ممکن نہیں رہتا۔

خواتین مسافروں کا کہنا ہے کہ میٹرو بس میں خواتین کے لیے مختص حصے میں نشستوں کی تعداد انتہائی کم ہے، جس کے باعث بچوں کے ساتھ سفر کرنے والی خواتین اور بزرگ خواتین کو اکثر کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑتا ہے۔ رش کے دوران بس کے اندر توازن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے گرنے یا کسی حادثے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

خواتین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ خواتین کے دروازے کے ساتھ بائیں جانب موجود دو نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں، تاہم اکثر مرد مسافر ان نشستوں پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ بارہا شکایات کے باوجود میٹرو بس کے عملے کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونا خواتین میں مایوسی اور احساسِ محرومی کو جنم دے رہا ہے۔

میٹرو بس میں ایک اور سنگین مسئلہ نوسربازوں اور جیب کتروں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ہیں۔ رش کے دوران موبائل فون، پرس اور نقد رقم کی چوری کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث خواتین اور بزرگ مسافر خود کو زیادہ غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ متاثرہ شہری صائمہ بی بی نے بتایا کہ چوری کی شکایت پر اکثر میٹرو بس کا عملہ مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کرتا اور نہ ہی فوری مدد کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں نوسرباز باآسانی فرار ہو جاتے ہیں۔

شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان مسائل کے حل کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ بسوں کے شیڈول کو بہتر بنایا جائے اور رش کے اوقات میں بسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ ہجوم میں کمی آ سکے۔ خواتین کے لیے مختص حصے میں نشستوں کی تعداد بڑھائی جائے اور مخصوص نشستوں پر صرف خواتین کے بیٹھنے کو یقینی بنایا جائے۔

اس کے علاوہ بسوں اور اسٹیشنز پر سیکیورٹی اہلکاروں کی مؤثر موجودگی، سی سی ٹی وی کیمروں کی مسلسل نگرانی اور عملے کی مناسب تربیت کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ نوسربازوں کے خلاف فوری کارروائی ممکن ہو۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ ان مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے تو راولپنڈی اور اسلام آباد میٹرو بس سروس واقعی خواتین، بچوں اور بزرگ شہریوں کے لیے ایک محفوظ، باوقار اور قابلِ اعتماد سفری سہولت بن سکتی ہے۔