کسی بھی قوم کی شناخت اس کی زبان سے ہوتی ہے۔ زبان محض اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں بلکہ قوم کی تاریخ، تہذیب اور اجتماعی شعور کی عکاس ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ترقی اور جدیدیت کی دوڑ نے مادری زبان کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ آج غیر ملکی زبانوں کو قابلیت، ذہانت اور کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ مادری زبان کو محدود سوچ یا پسماندگی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ہمارے ثقافتی وجود کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بھی بنتا جا رہا ہے۔

ماہرینِ تعلیم اس حقیقت پر متفق ہیں کہ بچے اپنی ابتدائی تعلیم مادری زبان میں حاصل کریں تو ان کی سیکھنے کی صلاحیت نمایاں طور پر بہتر ہوتی ہے۔ مادری زبان میں تعلیم بچے کو مفہوم سمجھنے، سوال کرنے اور تخلیقی انداز میں سوچنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ایسے بچے نہ صرف تعلیمی طور پر بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں بلکہ خود اعتمادی کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، جب بچوں پر ابتدا ہی سے اجنبی زبان کا بوجھ ڈال دیا جائے تو وہ ذہنی دباؤ، احساسِ کمتری اور تعلیمی کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مادری زبان ہماری ثقافت، روایات اور سماجی اقدار کی امین ہوتی ہے۔ لوک ادب، کہاوتیں، محاورے، داستانیں اور عوامی دانش اسی زبان کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔ جب زبان کمزور ہوتی ہے تو یہ تمام ثقافتی سرمائے بھی ماند پڑنے لگتے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ زبان کے زوال کے ساتھ قوموں کی شناخت بھی دھندلا جاتی ہے۔

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ مادری زبان میں مضبوطی رکھنے والے افراد دیگر زبانیں نسبتاً آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے کبھی اپنی مادری یا قومی زبان کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھا۔ جاپان، چین، فرانس اور جرمنی جیسے ممالک نے تعلیم، تحقیق اور دفتری امور اپنی زبان میں انجام دے کر ترقی کی منازل طے کیں، جبکہ عالمی زبانوں کو بطور مہارت سیکھا۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں مادری زبان کو صرف گھریلو گفتگو تک محدود کر دیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور میڈیا میں اسے مناسب مقام حاصل نہیں۔ نتیجتاً نئی نسل اپنی زبان سے ناآشنا ہوتی جا رہی ہے اور اپنی ثقافتی جڑوں سے کٹتی جا رہی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مادری زبان کو تعلیمی نظام، ذرائع ابلاغ اور سماجی زندگی میں اس کا جائز مقام دیا جائے۔ مادری زبان کا فروغ کسی دوسری زبان کی مخالفت نہیں بلکہ فکری خود مختاری، ثقافتی بقا اور قومی اعتماد کی علامت ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اجتماعی غفلت کا یہ رویہ ترک نہ کیا تو ہم ترقی تو کر لیں گے، مگر اپنی اصل پہچان کھو بیٹھیں گے۔