خیبر پختونخوا بالخصوص پشاور میں خواتین کے لیے آزادانہ اور محفوظ سفر ہمیشہ ایک بڑا سماجی مسئلہ رہا ہے۔ قدامت پسند پشتون معاشرے میں خواتین کا اکیلے باہر نکلنا یا سواری چلانا اب بھی کئی حلقوں میں ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے، تاہم پشاور سے تعلق رکھنے والی صبا یامین نے سکوٹی چلا کر اس سوچ کو بدلنے کی عملی کوشش کی ہے۔
صبا یامین کا کہنا ہے کہ خواتین کو عوامی ٹرانسپورٹ، رکشوں اور دیگر گاڑیوں میں سفر کے دوران اکثر ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف شہروں تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے میں خواتین کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سکوٹی خواتین کے لیے ایک آسان، سستی اور محفوظ سواری ہے جو انہیں دوسروں پر انحصار سے نجات دلاتی ہے۔ صبا یامین کے مطابق سکوٹی استعمال کرنے سے انہیں نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ وہ خود کو زیادہ بااعتماد اور محفوظ محسوس کرتی ہیں۔
صبا یامین کا کہنا تھا کہ پشتون ثقافت میں خواتین کو عزت اور تحفظ دینے پر زور دیا جاتا ہے، مگر عملی طور پر کئی روایات خواتین کی نقل و حرکت کو محدود کر دیتی ہیں۔ ان کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ یہ سوچ بدل رہی ہے اور تعلیم یافتہ خاندان اب اپنی بیٹیوں کو خودمختار بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ خواتین کا سکوٹی چلانا ایک جرات مندانہ اور خوش آئند قدم ہے، جو ہراسانی جیسے مسائل کے خلاف ایک خاموش مگر مؤثر پیغام ہے۔ ماہرین سماجیات کے مطابق اگر حکومت اور متعلقہ ادارے خواتین کے لیے ٹریفک آگاہی، ڈرائیونگ تربیت اور محفوظ سڑکوں کو یقینی بنائیں تو اس رجحان کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔
صبا یامیں جیسی خواتین نہ صرف پشتون معاشرے میں مثبت تبدیلی کی علامت ہیں بلکہ وہ دیگر لڑکیوں کے لیے بھی ایک عملی مثال بن رہی ہیں۔ یہ رجحان ثابت کرتا ہے کہ پشتون ثقافت روایت کے ساتھ ساتھ ترقی اور خواتین کے بااختیار ہونے کی گنجائش بھی رکھتی ہے۔
