ہمارے معاشرے میں تعلیم کو ترقی اور خوشحالی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ خصوصاً قبائلی اور دور دراز علاقوں میں تعلیم کا فروغ نہایت اہم ہے تاکہ وہاں کی نئی نسل بہتر مستقبل کی طرف گامزن ہو سکے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض اوقات وہی ادارے، جو تعلیم اور انصاف کے علمبردار ہونے چاہئیں، ایسے فیصلے کرتے نظر آتے ہیں جو میرٹ اور شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں۔

حال ہی میں وزیرستان میں تدریسی آسامیوں کے لیے ایک اشتہار جاری کیا گیا جس میں مختلف اسکولوں کی خالی پوسٹیں ظاہر کی گئیں تاکہ تعلیم یافتہ نوجوان اس موقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ مگر حیران کن طور پر ہمارے گاؤں کے اسکول اور مردالگر کے پرائمری گرلز اسکول کی آسامیوں کو اس اشتہار میں شامل نہیں کیا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان دونوں اسکولوں میں دو خالی پوسٹیں موجود ہونے کے باوجود انہیں جان بوجھ کر اشتہار میں ظاہر نہیں کیا گیا۔

یہ معاملہ اس وقت مزید تشویشناک بن گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ انہی پوسٹوں پر ایجوکیشن آفس میں موجود ایک خاتون نے اپنی قریبی رشتہ داروں کو تعینات کروا دیا۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ نہ صرف میرٹ بلکہ انصاف کے بنیادی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کیونکہ ہمارے علاقے میں بھی تعلیم یافتہ لڑکیاں موجود ہیں جو ان آسامیوں کے لیے درخواست دے سکتی تھیں اور میرٹ کی بنیاد پر مقابلہ کر سکتی تھیں۔

تعلیم کے شعبے میں اس طرح کے واقعات صرف چند افراد کا حق نہیں مارتے بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ جب نوجوان یہ دیکھتے ہیں کہ قابلیت اور محنت کے بجائے سفارش اور ذاتی تعلقات کو ترجیح دی جا رہی ہے تو ان کے دلوں میں مایوسی پیدا ہوتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ اگر واقعی کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لیے یہ یقینی بنایا جائے کہ ہر خالی آسامی کو باقاعدہ اشتہار کے ذریعے عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ سب کو برابر کا موقع مل سکے۔

تعلیم کسی بھی قوم کے مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔ اگر اسی شعبے میں ناانصافی اور اقربا پروری کو جگہ دی جائے گی تو نہ صرف تعلیمی معیار متاثر ہوگا بلکہ معاشرے میں انصاف کا تصور بھی کمزور پڑ جائے گا۔