باڑہ پریس کلب کے صدر محمد سلیم آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں گزشتہ روز عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ احتجاج کی کوریج کے دوران سی ٹی ڈی کے ایک افسر اور اس کی ٹیم نے باڑہ پریس کلب کے چار معزز صحافیوں—سابق صدر منیر آفریدی، نائب صدر جہانزیب آفریدی، سابق صدر کامران آفریدی اور سینئر صحافی قاضی محمد رؤف—پر اسلحہ تان لیا۔ اس دوران صحافی قاضی محمد رؤف کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں زمین پر گرا کر زدوکوب کیا گیا اور بندوق کے بٹ سے مارا گیا۔ مزید برآں صحافیوں کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے گئے اور انہیں گاڑی میں ڈال کر اغوا کر کے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں، بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔ تاہم صحافیوں کے شناختی کارڈز اور گاڑی تاحال پولیس کے قبضے میں ہیں۔
اجلاس میں اس واقعے کو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ سی ٹی ڈی افسر کے غیر مناسب رویے اور صحافیوں پر مبینہ تشدد کے خلاف باڑہ پریس کلب تمام پولیس اداروں کی کوریج کا بائیکاٹ کرے گا۔ یہ بائیکاٹ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک متعلقہ افسر کو معطل نہیں کیا جاتا اور واقعے کی شفاف تحقیقات نہیں کرائی جاتیں۔
باڑہ پریس کلب نے جمرود اور لنڈی کوتل پریس کلبوں سمیت پشاور پریس کلب، صوبے کے تمام پریس کلبز، ضلع خیبر کے صحافیوں اور صحافتی تنظیموں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کے خلاف یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی کوریج کے بائیکاٹ میں شامل ہوں، کیونکہ مذکورہ اہلکار کی موجودگی میں صحافیوں کی زندگیوں کو آئندہ بھی خطرات لاحق رہ سکتے ہیں۔
باڑہ پریس کلب نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، کور کمانڈر پشاور اور دیگر منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، ملوث اہلکاروں کو معطل کیا جائے اور صحافیوں کو مؤثر تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
