باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قبیلہ شلوبر سے تعلق رکھنے والے نوجوان جانب گل نے اپنے والد ایوب خان کی مبینہ گمشدگی کے معاملے پر باڑہ پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ان کے والد کی گمشدگی کی رپورٹ درج نہیں کر رہی، کیونکہ اس معاملے میں باڑہ تھانے کے بعض پولیس اہلکار بھی مبینہ طور پر ملوث ہیں۔
جانب گل کے مطابق ان کے والد کو مکان کے لین دین کے تنازع پر مبینہ طور پر اغوا کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس واقعے میں سابق خاصہ دار لائن آفیسر حاجی شیر میر اور دیگر افراد ملوث ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اغوا سے چند منٹ قبل ان کے والد نے ایک وائس پیغام ریکارڈ کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مذکورہ افراد راستے میں موجود ہیں اور اگر انہیں کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار یہی لوگ ہوں گے۔ جانب گل کے مطابق یہ وائس پیغام ان کے پاس بطور ثبوت محفوظ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے والد نے ایک مکان فروخت کیا تھا، جس کے لین دین پر بعد ازاں تنازع پیدا ہوگیا۔ ان کے بقول خریداروں اور دیگر افراد کے ساتھ اس معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے، جس کے بعد ان کے والد کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔
جانب گل نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے والد کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
