ہوائی فائرنگ کو عموماً ایک ایسا عمل سمجھا جاتا ہے جس میں بظاہر کسی کو نقصان نہیں پہنچتا، کیونکہ گولی آسمان کی طرف چلائی جاتی ہے۔ مگر یہ سوچ درحقیقت نہ صرف کم عقلی بلکہ خطرناک لاعلمی کی عکاس ہے۔
ہوائی فائرنگ کرنے والے اکثر یہ نہیں سمجھتے کہ نہ تو ہر گولی سیدھی آسمان کی طرف جاتی ہے، اور نہ ہی یہ حقیقت نظر انداز کی جا سکتی ہے کہ جو گولی اوپر جاتی ہے، وہ واپس زمین پر آتی بھی ہے۔
جب کسی پستول یا کلاشنکوف سے آسمان کی طرف فائر کیا جاتا ہے تو گولی تقریباً 1500 میل فی گھنٹہ (670 میٹر فی سیکنڈ) کی رفتار سے حرکت کرتی ہے، جو آواز کی رفتار سے دوگنی ہے۔ یہ گولی تقریباً دو میل کی بلندی تک جا سکتی ہے۔ جب یہ اپنی بلند ترین حد پر پہنچتی ہے تو اس کی رفتار صفر ہو جاتی ہے، اور اسی لمحے اصل خطرہ شروع ہوتا ہے۔
زمین کی طرف واپس آتے ہوئے، کششِ ثقل کے باعث گولی کی رفتار دوبارہ بڑھ جاتی ہے اور یہ تقریباً 241 کلومیٹر فی گھنٹہ کی مہلک رفتار اختیار کر لیتی ہے۔ یہ رفتار کسی بھی انسان کو شدید زخمی یا موقع پر ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے۔
سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ گولی ہوا کے دباؤ اور شدت کے باعث فائرنگ کے مقام سے سینکڑوں فٹ دور جا کر گر سکتی ہے۔ یعنی فائر کرنے والا شخص نہیں جانتا کہ گولی کہاں گرے گی، اور متاثرہ شخص کو یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ کس خطرے کی زد میں آ گیا ہے۔
اسی لیے ہر سال ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں آوارہ گولیوں کا نشانہ بن کر درجنوں بے گناہ افراد اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں۔ یہ ایسے قتل ہیں جن میں نہ قاتل جانتا ہے کہ اس نے کیوں قتل کیا، اور نہ مقتول کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیوں مارا گیا۔
پرانے زمانے کی خوشیاں اور موجودہ صورتحال
پرانا زمانہ واقعی سنہری تھا۔ شادی بیاہ اور خوشیوں کے مواقع پر لوگ دل سے خوشیاں بانٹتے تھے۔ محبت بھرے پیغامات، گلے ملنا، گھر کے پکوان، مٹھائیاں اور تمام رشتہ دار اکٹھا ہونا خوشی کے لمحات کو یادگار بناتا تھا۔ یہ لمحات نہ صرف خوشی منانے کے لیے تھے بلکہ رشتوں کو مضبوط کرنے اور معاشرتی بندھنوں کو جلا بخشنے کے مواقع بھی فراہم کرتے تھے۔
مگر آج کل زمانہ بدل چکا ہے۔ تیز رفتار زندگی، میڈیا کا بڑھتا ہوا اثر، اور دکھاوے کی ثقافت نے خوشی کے اظہار کے انداز بدل دیے ہیں۔ شادی بیاہ اور دیگر خوشیوں کے مواقع اب اکثر شور، دھماکے، مہنگے مظاہرے، اور بعض اوقات خطرناک روایات کے ذریعے منائے جاتے ہیں۔ خوشی کا اصل جذبہ، یعنی محبت، ہنسی اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنا، کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔
یہ تبدیلی نہ صرف معاشرتی رشتوں کو کمزور کر رہی ہے بلکہ بعض اوقات جان لیوا نتائج بھی پیدا کر رہی ہے۔
حالیہ واقعہ
تھانہ ارمڑ کی حدود ارمڑ پایاں میں ایک شادی کی تقریب کے دوران اندھا دھند ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں ایک کمسن بچی، طفلکہ (ع) دختر محمد یونس، شدید زخمی ہو گئی۔ شادی کی تقریب میں شریک بعض افراد نے چند لمحوں کی خوشی کے لیے اپنی اور دوسروں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا۔
پولیس کو اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او خالد آفریدی اور اے ایس آئی گل زیب خان نے فوری کارروائی کی۔ ہوائی فائرنگ میں ملوث چار دلہے، حماد، جواد، واجد، اور امجد سمیت مجموعی طور پر 19 افراد گرفتار کیے گئے۔ پولیس نے ملزمان سے اسلحہ اور استعمال شدہ گاڑی بھی برآمد کر لی، اور مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی۔
سماجی اور قانونی پہلو
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہوائی فائرنگ نہ صرف غیر قانونی اور خطرناک ہے بلکہ یہ معاشرتی اقدار اور انسانی زندگی کے لیے سنگین خطرہ بھی ہے۔ پاکستان میں ہر سال ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد زخمی یا ہلاک ہوتے ہیں، اور اس کے خلاف قانون سخت ہے۔
عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے پولیس مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن میں مساجد میں اعلانات، سوشل میڈیا مہمات، اور کمیونٹی پروگرام شامل ہیں۔
نتیجہ اور پیغام
خوشی کا حقیقی اظہار محبت، ہنسی، اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے میں ہوتا ہے۔ چند لمحوں کی دکھاوے کی خوشی کسی کی جان خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
پشاور پولیس کی جانب سے عوام سے اپیل ہے کہ وہ اپنی خوشیوں کو محفوظ اور پرامن طریقے سے منائیں، اور ہوائی فائرنگ جیسے خطرناک فعل سے مکمل اجتناب کریں۔
اصل خوشی وہ ہے جو دل سے محسوس کی جائے، دکھاوے سے نہیں۔ ہر لمحہ محبت اور حفاظت کے ساتھ جینے کی عادت پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
