پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، جن میں سے بڑی تعداد نے دیہی اور زرعی معیشت میں فعال کردار ادا کیا۔ حالیہ برسوں میں حکومتی پالیسیوں کے تحت افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل میں تیزی آئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے زرعی شعبے میں مزدوروں کی کمی اور معاشی خدشات جنم لے رہے ہیں۔

افغان مہاجرین بالخصوص خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے بعض اضلاع میں فصلوں کی کاشت، کٹائی، باغبانی، سبزی و پھلوں کی پیداوار، مویشی پالنے اور شہد کی تیاری جیسے شعبوں سے وابستہ رہے۔ ان کے انخلا کے بعد کھیت تو موجود ہیں، مگر انہیں سنبھالنے والے ہاتھ کم ہوتے جا رہے ہیں، جس سے زرعی پیداوار میں کمی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

زرعی ماہرین کے مطابق گندم، کپاس اور سبزیوں کی فصلیں اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ کسان اور زمیندار کٹائی کے مرحلے پر شدید غیر یقینی کا شکار ہیں، جس کے اثرات مقامی روزگار اور مجموعی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔

افغان کاشتکار شفیع اللہ کا کہنا ہے کہ وہ 45 سال قبل پاکستان آئے تھے۔
جب ہم یہاں آئے تو زمین غیر آباد اور کاشت کے قابل نہیں تھی، لیکن ہم نے محنت سے اسے قابلِ کاشت بنایا۔ ہم سبزیاں اگاتے تھے جو راولپنڈی، گوجرانوالہ، پشاور اور پنجاب کی مختلف منڈیوں تک پہنچتی تھیں۔ افغان مہاجرین کی واپسی سے نہ صرف یہ زمینیں متاثر ہوں گی بلکہ پاکستان کی معیشت پر بھی اس کے منفی اثرات پڑیں گے۔

شفیع اللہ کے مطابق پہلے زمین کا سالانہ اجارہ 33 ہزار روپے تھا جو اب کم ہو کر 8 سے 10 ہزار روپے تک آ گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مہاجرین کو مرحلہ وار واپسی کے لیے کچھ وقت دیا جائے، کیونکہ سرد موسم میں سرحد پر حالات انتہائی مشکل ہوتے ہیں۔ کسی ملک میں ساری عمر گزارنے کے بعد اچانک واپس جانا ذہنی اور معاشی طور پر آسان نہیں ہوتا۔

دوسری جانب زمین کے مالک رضا خان کہتے ہیں کہ مسائل پہلے ہی موجود تھے، لیکن موجودہ صورتحال نے انہیں مزید سنگین بنا دیا ہے۔
کئی زمینیں اجارے پر دی جا چکی تھیں اور ایک یا دو سال کی رقم پہلے ہی وصول ہو چکی ہے۔ بیج، کھاد، سپرے اور دیگر زرعی اخراجات پر بھاری سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔ اگر فصل ضائع ہو گئی تو یہ نقصان کسانوں کے ساتھ ساتھ زمین مالکان کو بھی برداشت کرنا پڑے گا۔

رضا خان کے مطابق ان کے پاس اتنی استعداد نہیں کہ وہ خود فصلیں کاٹ سکیں یا منڈی تک پہنچا سکیں۔ یہ نقصان صرف چند افراد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے علاقے اور ملک کی سطح پر اس کے اثرات محسوس کیے جائیں گے۔

مقامی صحافی محمد اختر نعیم کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین نے محنت، اجتماعی خاندانی کام اور جدید زرعی طریقوں کے ذریعے مقامی زراعت کو فروغ دیا۔
افغان مہاجرین کے گھروں میں ایک سے زیادہ افراد کام کرتے تھے، جس سے انہیں مزدور رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی اور پیداوار زیادہ ہوتی تھی۔ انہوں نے نئی زرعی تکنیکس متعارف کرائیں اور مقامی معاشرے میں اس حد تک ضم ہو گئے کہ زبان اور ثقافت بھی اپنا لی۔

محمد اختر نعیم کے مطابق مہاجرین کے جانے سے مقامی بے روزگار افراد کو کچھ مواقع ضرور ملیں گے، تاہم زرعی معیشت میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگا۔
اگر یہ انخلا مرحلہ وار ہوتا تو نقصان کم ہوتا۔ حکومت کو ایک واضح اور متوازن پالیسی بنانی چاہیے تاکہ مقامی کسان اور واپس جانے والے مہاجرین دونوں غیر ضروری مشکلات سے محفوظ رہ سکیں۔