باڑہ: وادیٔ تیراہ کے میدانی علاقوں میں گزشتہ دو دنوں سے وقفے وقفے سے جاری شدید برفباری نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے ہیں۔ شدید سرد موسم اور مسلسل برفباری کے باعث متاثرینِ نقل مکانی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی گاڑیاں باغ مرکز سے دواتوئی چیک پوسٹ تک کئی کلومیٹر طویل قطاروں میں کھڑی ہیں، جہاں بچے، خواتین اور بزرگ کھلے آسمان تلے شدید سردی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق برفباری کے باعث سڑکیں پھسلن کا شکار ہو چکی ہیں جبکہ کئی مقامات پر راستے مکمل طور پر بند ہو گئے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹوں بلکہ بعض جگہوں پر دن بھر گاڑیاں ایک ہی جگہ کھڑی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے ایندھن ختم ہو رہا ہے اور بچوں و بزرگوں میں سردی سے بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
شدید سردی کے باعث بچوں کی اموات کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر تاحال ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ مقامی افراد کے مطابق شدید ٹھنڈ، خوراک کی کمی اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث انسانی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ نہ تو مناسب شیلٹر فراہم کیے گئے ہیں اور نہ ہی ہنگامی طبی امداد یا گرم کپڑوں کا انتظام کیا گیا ہے۔
متاثرینِ نقل مکانی نے بتایا کہ گھریلو سامان سے بھری گاڑیوں کو برفانی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر لے جانا انتہائی مشکل ہے، جبکہ تنگ اور دشوار گزار پہاڑی راستوں پر پھسلن کے باعث کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ کئی خاندان خواتین اور بچوں کے ہمراہ سفر کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
متاثرین نے ریاست سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ خراب موسمی حالات کے پیشِ نظر نقل مکانی کی مدت میں فوری توسیع کی جائے، برفباری رکنے تک نقل مکانی کو عارضی طور پر معطل کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر ٹھہرنے، طبی سہولیات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
