پاکستان کی آبادی کا تقریباً ستر فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور کسی بھی قوم کے لیے نوجوان اس کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں۔ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے اپنی نوجوان نسل کو ہی ترقی کی بنیاد بنایا، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں یہی نوجوان آج سب سے زیادہ نظرانداز کیے گئے طبقے میں شمار ہوتے ہیں۔ بے روزگاری، فرسودہ تعلیمی نظام اور مؤثر رہنمائی کی کمی نے نوجوانوں کو ایک ایسی راہ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں مایوسی، بے یقینی اور بے مقصدیت عام ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستان کا تعلیمی نظام ہر سال لاکھوں ڈگری یافتہ نوجوان تو پیدا کرتا ہے، لیکن ان ڈگریوں کے ساتھ وہ عملی مہارتیں شامل نہیں ہوتیں جو موجودہ دور کی ملازمتوں کے لیے ناگزیر ہیں۔ نوجوان برسوں کتابی علم حاصل کر کے امتحانات میں کامیابی تو سمیٹ لیتے ہیں، مگر جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ اصل مقابلے کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔ روزگار فراہم کرنے والے ادارے تجربہ اور مہارت کا تقاضا کرتے ہیں، جبکہ نوجوان کے ہاتھ میں صرف ایک کاغذ ہوتا ہے جسے ڈگری کہا جاتا ہے۔

اس ناکام نظام کے اثرات محض معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہیں۔ مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنے والا نوجوان آہستہ آہستہ ذہنی دباؤ اور شدید مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کا خود پر اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے اور وہ خود کو معاشرے پر بوجھ سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ حقیقت میں قصور نوجوان کا نہیں بلکہ اس نظام کا ہے جو اسے آگے بڑھنے کا موقع فراہم نہیں کرتا۔ یہی مایوسی بعد ازاں جرائم، منشیات اور انتہا پسندی جیسے سنگین سماجی مسائل کو جنم دیتی ہے۔

ان حالات کے باعث نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ملک چھوڑنے کو ہی اپنے مسائل کا حل سمجھنے لگتی ہے۔ وہ پاکستان میں رہ کر محنت اور جدوجہد کرنا چاہتے ہیں، مگر جب انہیں یہاں اپنے مستقبل کی کوئی واضح تصویر نظر نہیں آتی تو بیرونِ ملک جانے کا خواب ہی ان کی آخری امید بن جاتا ہے۔ یہ برین ڈرین درحقیقت ملکی ترقی کے لیے ایک خاموش تباہی ہے، کیونکہ جو قوم اپنے ہنرمند اور باصلاحیت نوجوان کھو دیتی ہے، وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہے۔

تاہم اس مایوس کن صورتحال کے باوجود امید کی ایک کرن اب بھی موجود ہے۔ یہی نوجوان اگر درست رہنمائی، جدید مہارتیں اور مناسب مواقع حاصل کر لیں تو پاکستان کی تقدیر بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ آج دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں فری لانسنگ، آن لائن کاروبار، آئی ٹی اور ٹیکنالوجی جیسے شعبے نئے امکانات پیدا کر رہے ہیں۔ پاکستانی نوجوان پہلے ہی ان میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، مگر یہ کامیابیاں زیادہ تر انفرادی کوششوں کا نتیجہ ہیں، نہ کہ کسی جامع اور مؤثر حکومتی حکمتِ عملی کا۔

وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور تعلیمی ادارے باہمی تعاون سے ایسا نظام تشکیل دیں جو نوجوانوں کو محض ڈگریاں نہیں بلکہ عملی ہنر بھی فراہم کرے۔ انہیں یہ سوچ سکھائی جائے کہ وہ صرف نوکری کے منتظر نہ ہوں بلکہ خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے بنیں۔ جب ایک نوجوان خود کو بااختیار محسوس کرے گا تو وہ مایوسی کے بجائے امید، محنت اور تعمیر کا راستہ اختیار کرے گا۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر آج ہم نے ان کے مسائل کو سنجیدگی سے نظرانداز کیا تو کل ہمیں ایک کھوئی ہوئی نسل کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن اگر ہم نے انہیں مواقع، اعتماد اور درست سمت فراہم کر دی تو یہی نوجوان پاکستان کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔