پشاور کے علاقے دیر کالونی، کالج روڈ پر واقع ایک نجی اسکول کی خستہ حال عمارت کی چھت گرنے سے 29 بچوں سمیت دو خاتون ٹیچر کی ہلاکت کا دلخراش واقعہ تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ، عمارتوں کی خستہ حالی اور متعلقہ حکام کی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حادثے میں متعدد بچے زخمی بھی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لئے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا، جبکہ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔

اسکول وہ جگہ ہے جہاں والدین اپنے بچوں کو بہتر مستقبل کی امید کے ساتھ بھیجتے ہیں۔ لیکن جب تعلیمی اداروں کی عمارتیں ہی بچوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن جائیں تو اسے محض ایک حادثہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سانحہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے بلکہ صوبے میں تعلیمی اداروں کی حفاظت اور انتظامی نگرانی کے نظام کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

کیا اسکول کی عمارت محفوظ قرار دی گئی تھی؟

اس واقعے کے بعد کئی اہم سوالات جواب طلب ہیں۔ کیا اسکول کی عمارت کی تعمیر اور منظوری کے قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے؟ کیا عمارت کا باقاعدہ حفاظتی معائنہ کیا گیا تھا؟ اگر عمارت خستہ حال تھی تو وہاں تدریسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی اور ان کے تدارک کے لیے متعلقہ اداروں نے کیا اقدامات کیے تھے؟

ان سوالات کے جوابات شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کے ذریعے سامنے آنا ضروری ہیں۔ کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے حادثے کی وجوہات، عمارت کی حالت اور متعلقہ اداروں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ سانحہ کس نوعیت کی غفلت یا انتظامی ناکامی کا نتیجہ تھا۔

نجی اسکولوں کی نگرانی کس کی ذمہ داری ہے؟

نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن، نگرانی اور متعلقہ قواعد پر عمل درآمد یقینی بنانا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ تاہم، عمارت کی حفاظت کے لیے اسکول انتظامیہ اور عمارت سے متعلقہ مجاز اداروں کے کردار کا تعین بھی ضروری ہے۔ بچوں کی زندگیوں سے متعلق حفاظتی تقاضوں کو محض کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔

حکومت کو چاہیے کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرائے، عمارت کی منظوری، حفاظتی معائنے اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لے اور اگر کسی فرد یا ادارے کی غفلت ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتوں کا ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی معائنہ کیا جائے۔ جن عمارتوں کو غیر محفوظ قرار دیا جائے، وہاں تدریسی سرگرمیاں اس وقت تک معطل رکھی جائیں جب تک ضروری حفاظتی اقدامات مکمل نہ کر لیے جائیں۔

متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور عملی مدد درکار ہے

اس سانحے میں اپنے بچوں اور پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کا دکھ ناقابلِ بیان ہے۔ ان کے لیے محض تعزیتی بیانات اور رسمی ہمدردی کافی نہیں۔ انہیں انصاف، زخمیوں کے علاج معالجے میں بھرپور معاونت اور متاثرہ خاندانوں کی ضروریات کے مطابق عملی مدد فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

اس سے بھی بڑھ کر، حکومت کو ایسے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے جن سے مستقبل میں اس نوعیت کے حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ حفاظتی معائنے کا باقاعدہ نظام، خلاف ورزیوں پر مؤثر کارروائی اور عمارتوں کی حالت کی مسلسل نگرانی ہی بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول کی ضمانت بن سکتی ہے۔

بچوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے

بچوں کا تحفظ حکومت، اسکول انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس سانحے کے بعد ضروری ہے کہ تحقیقات کو محض رسمی کارروائی نہ بننے دیا جائے، حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، ذمہ داری کا واضح تعین کیا جائے اور حفاظتی نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے۔

آخرکار، کسی بھی معاشرے کی ترقی کا انحصار اس کے بچوں کے محفوظ مستقبل پر ہوتا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہوئے ان کی جان کے بارے میں فکرمند ہوں تو یہ پورے تعلیمی نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

سوال اب بھی وہی ہے: پشاور کے اس سانحے میں بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، اور کیا آئندہ ایسے واقعات روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے؟