ایبٹ آباد: ایوب ٹیچنگ انسٹیٹیوشن کے ملازم اور سپروائزر سردار عارف مبینہ پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے۔ واقعہ تھانہ میرپور کی حدود میں پھل گلاب روڈ پر پیش آیا۔

لواحقین کے مطابق سردار عارف کو ان کے رہائشی گھر میں بیوی اور بچوں کے سامنے مبینہ طور پر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔

مقتول کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد ورثاء اور لواحقین نے مین شاہراہِ قراقرم کو دونوں اطراف سے بند کرکے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے مبینہ طور پر واقعے میں ملوث ایس ایچ او سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

لواحقین نے الزام عائد کیا کہ ایک افغان شہری سے متعلق تنازع کے معاملے پر پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر سردار عارف کو گھر کے اندر تشدد کا نشانہ بنایا اور متعدد گولیاں مار کر قتل کردیا۔ تاہم واقعے کی اصل صورتحال پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر ایس پی ہیڈکوارٹر اشتیاق خان ہسپتال پہنچے اور لواحقین سے مذاکرات کیے۔ پولیس حکام نے واقعے کی شفاف انکوائری اور انصاف کی یقین دہانی کرائی۔

دوسری جانب ایوب ٹیچنگ انسٹیٹیوشن کے ملازمین نے بھی مبینہ طور پر واقعے میں ملوث ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے تک ایمرجنسی سروسز کے علاوہ دیگر طبی خدمات معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

لواحقین اور ملازمین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرکے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔