خیبر، باڑہ: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کا احتجاج باڑہ میں چوتھے روز بھی جاری ہے۔ باڑہ خیبر چوک احتجاج کا مرکزی مقام بنا ہوا ہے، جبکہ علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

تین روز سے جاری کشیدگی کے بعد مظاہرین گزشتہ روز سہ پہر تقریباً چار بجے باڑہ خیبر چوک پہنچ گئے، جہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا۔

ریسکیو 1122 خیبر کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے چار افراد کو طبی امداد کے لیے پشاور کے کمپلیکس اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ 25 سے زائد دیگر زخمیوں کو موقع پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران اب تک 80 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ روز شام کے وقت باڑہ خیبر چوک پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی، جس کے بعد مظاہرین کے باڑہ ٹی ایم اے کی عمارت میں داخل ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین نے نادرا آفس کو آگ لگا دی، جس سے سکیورٹی اہلکار کی موٹر سائیکل اور نادرا کی موبائل وین کو بھی نقصان پہنچا۔ دفتر میں توڑ پھوڑ کی اطلاعات بھی ہیں، جبکہ پتھراؤ کے نتیجے میں ٹی ایم اے اور ریسکیو 1122 کے دفاتر کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ان واقعات اور ان کے ذمہ داروں سے متعلق آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

احتجاج کے چوتھے روز باڑہ بازار بند ہے، جبکہ خیبر پولیس کی معاونت کے لیے پشاور پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے اہلکار بھی علاقے میں تعینات کیے گئے ہیں۔ بازار اور ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری ہے۔

ادھر سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے باڑہ بازار کا دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات سمیت متاثرہ مقامات کا جائزہ لیا۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ باڑہ بازار اور گردونواح میں سکیورٹی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ پشاور پولیس، خیبر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری جاری ہے۔

ڈاکٹر میاں سعید نے واضح کیا کہ سرکاری املاک اور حساس مقامات کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق احتجاج کی آڑ میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، توڑ پھوڑ کرنے یا بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

سی سی پی او پشاور نے کہا کہ پولیس افسران اور اہلکار مکمل طور پر الرٹ ہیں اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔