خیبر پختونخوا میں سول ججز کی 105 آسامیوں کے لیے 3 ہزار 97 امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائیں، تاہم امتحان میں شریک ہونے والے 1 ہزار 24 امیدواروں میں سے صرف 3 ہی کامیاب ہوسکے۔

امیدواروں کی بڑی تعداد کے مقابلے میں کامیاب امیدواروں کی یہ کم تعداد کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا امیدوار امتحان کے لیے مناسب تیاری نہیں کر رہے؟ کیا قانونی تعلیم اور عدالتی مقابلے کے امتحان کے تقاضوں میں کوئی فرق موجود ہے؟ یا پھر جامعات میں قانون کے طلبہ کو دورانِ تعلیم ایسے امتحانات کے لیے مطلوبہ رہنمائی اور عملی تربیت فراہم نہیں کی جاتی؟

ان سوالات کا جائزہ لینے کے لیے کیریئر کونسلر، ماہر تعلیم اور قانون کے استاد سے بات کی گئی۔

امتحان کے قریب تیاری شروع کرنا کافی نہیں، کیریئر کونسلر

کیریئر کونسلر، پی ایچ ڈی اسکالر اور سماجی رابطوں کے کارکن صاحبزادہ حیدر جان کے مطابق سول ججز کے امتحان میں کم کامیابی کی ایک وجہ امیدواروں کی تیاری کا غیر مستقل انداز بھی ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض طلبہ کامیابی کے لیے فوری اور آسان راستہ تلاش کرتے ہیں اور کئی ماہ تک سنجیدگی سے تیاری کرنے کے بجائے امتحان کے قریب آکر چند اہم موضوعات یا سوالات کی تیاری شروع کردیتے ہیں۔

صاحبزادہ حیدر جان کے مطابق ایسے مسابقتی امتحانات کے لیے ابتدا ہی سے منظم اور مسلسل تیاری ضروری ہے۔ امیدواروں کو صرف معلومات یاد کرنے کے بجائے یہ سمجھنا چاہیے کہ سوال کو کس انداز میں سمجھنا ہے، جواب کیسے تحریر کرنا ہے اور محدود وقت میں پورا پرچہ کس طرح مکمل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے طلبہ کو یونیورسٹی کی سطح پر بھی مناسب رہنمائی کی ضرورت ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کو امتحانی طریقۂ کار اور تقاضوں کو مزید واضح کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

ان کے مطابق امیدواروں کو پہلے دن سے محنت، درست حکمت عملی اور اپنی صلاحیت پر اعتماد کے ساتھ تیاری شروع کرنی چاہیے۔

قانون کو صرف یاد نہیں، سمجھنے کی ضرورت ہے

استاد اور صوبائی صدر دی ایس ایس ٹی ویلفیئر ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا طفیل محمد کے مطابق قانون کے طلبہ کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ قانونی دفعات اور تعریفیں یاد کرنے پر زیادہ زور دیتے ہیں، جبکہ قانون کو عملی صورتِ حال پر لاگو کرنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ طلبہ کو دفعات اور قانونی تعریفیں یاد ہوتی ہیں، لیکن جب کسی مقدمے کی صورتِ حال سامنے رکھ کر یہ پوچھا جائے کہ اس پر کون سا قانون لاگو ہوگا یا کیا قانونی فیصلہ ہونا چاہیے تو انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

طفیل محمد کے مطابق موجودہ ایل ایل بی نصاب میں اہم قانونی مضامین شامل ہیں، تاہم صرف نصاب مکمل کرلینا عدالتی امتحان کی مکمل تیاری نہیں ہے۔ طلبہ کو مقدمات کے تجزیے، شواہد کو سمجھنے، قانون کو عملی حالات پر لاگو کرنے اور فیصلے تحریر کرنے کی بھی مشق کرائی جانی چاہیے۔

انہوں نے مطالعے کی بدلتی ہوئی عادات کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق موبائل فون، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور مختصر مواد نے طلبہ کی توجہ اور مسلسل مطالعے کی عادت کو متاثر کیا ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی ذمہ داری صرف طلبہ پر عائد نہیں کی جاسکتی، بلکہ تعلیمی نظام اور عملی تربیت کے طریقۂ کار پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

قانونی تعلیم اور عدالتی امتحان کے درمیان خلا

اسلامیہ کالج پشاور کے شعبہ شریعہ و قانون کے اسسٹنٹ پروفیسر فیصل شہزاد خان کے مطابق سول ججز کا امتحان ایک مشکل اور مسابقتی امتحان ہے، جس میں صرف قانون کی بنیادی معلومات کافی نہیں ہوتیں۔

ان کے مطابق امیدوار کے لیے قوانین کی گہری سمجھ کے ساتھ ساتھ تجزیاتی صلاحیت، درست انداز میں جواب تحریر کرنے اور عملی قانونی صورتِ حال کو سمجھنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔

فیصل شہزاد خان کا کہنا ہے کہ جامعات میں طلبہ کو قانون تو پڑھایا جاتا ہے، تاہم اکثر انہیں اس علم کو مقابلے کے امتحان کے تقاضوں کے مطابق استعمال کرنے کی مطلوبہ تربیت نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ قانونی تعلیم اور عدالتی مقابلے کے امتحان کے درمیان ایک خلا محسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امیدواروں کی اپنی تیاری، وقت کا مؤثر انتظام، گزشتہ پرچوں کا جائزہ، تحریری مشق اور مسلسل محنت بھی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے کم کامیابی کی ذمہ داری صرف طلبہ یا صرف تعلیمی اداروں پر عائد نہیں کی جاسکتی۔

کامیابی کی شرح بہتر بنانے کے لیے کیا ضروری ہے؟

تینوں ماہرین کی گفتگو سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سول ججز کے امتحان میں کم کامیابی کو کسی ایک وجہ سے منسلک نہیں کیا جاسکتا۔ امیدواروں کی تیاری، مطالعے کی عادت، جواب لکھنے کی صلاحیت، قانونی تعلیم، عملی تربیت اور مناسب رہنمائی، سب اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

105 آسامیوں کے مقابلے میں 3 ہزار سے زائد درخواستیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ نوجوان عدلیہ کے شعبے میں آنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم صرف دلچسپی کامیابی کے لیے کافی نہیں۔

اگر طلبہ کو دورانِ تعلیم ہی عدالتی مقابلے کے امتحانات کے تقاضوں سے آگاہ کیا جائے، انہیں عملی تربیت، تحریری مشق اور مناسب رہنمائی فراہم کی جائے اور امیدوار خود بھی مسلسل اور منظم انداز میں تیاری کریں تو مستقبل میں کامیابی کی شرح بہتر ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

سول ججز کی 105 آسامیوں کے مقابلے میں صرف 3 امیدواروں کی کامیابی محض ایک امتحانی نتیجہ نہیں، بلکہ یہ قانونی تعلیم، امتحانی نظام، عملی تربیت اور امیدواروں کی تیاری کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدہ غور کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔