ہر سال 10 اکتوبر کو دنیا بھر میں سزائے موت کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد انسانی زندگی کے احترام، منصفانہ ٹرائل، شفاف عدالتی نظام اور سزائے موت کے استعمال سے متعلق اہم قانونی و انسانی حقوق کے پہلوؤں پر شعور اجاگر کرنا ہے۔ سال 2026 اور 2027 کی عالمی مہم کا موضوع ’’سزائے موت سے متاثرہ افراد کو انسانی نقطۂ نظر سے دیکھنا‘‘ ہے، جس میں سزائے موت پانے والے افراد، جرائم کے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے حقوق، مشکلات اور انسانی وقار کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔
دنیا بھر میں سزائے موت کے استعمال میں اضافہ، تشویش بڑھ گئی
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ سزائے موت اور پھانسی 2025 کے مطابق، 2025 میں دنیا کے 17 ممالک میں کم از کم 2,707 افراد کو پھانسی دی گئی، جبکہ 2024 میں یہ تعداد کم از کم 1,518 تھی۔ یوں ایک سال کے دوران پھانسیوں کی تعداد میں تقریباً 78 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، 2025 کے اختتام تک دنیا بھر میں کم از کم 25,508 افراد سزائے موت کے منتظر تھے۔ تاہم یہ اعدادوشمار دستیاب معلومات پر مبنی ہیں، کیونکہ چین اور بعض دوسرے ممالک میں پھانسیوں کی مکمل تعداد منظرِ عام پر نہیں آتی۔ اس لیے عالمی سطح پر اصل تعداد اس سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
یہ صورتِ حال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا سنگین جرائم کی روک تھام اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے لیے سزائے موت ہی واحد راستہ ہے، یا ایسا نظامِ انصاف بھی قائم کیا جا سکتا ہے جو قانون کی بالادستی، احتساب، عوامی تحفظ اور انسانی وقار کو بیک وقت یقینی بنائے؟
پاکستان میں سزائے موت اور آئینی ضمانتیں
پاکستان میں سزائے موت بدستور قانونی سزا کے طور پر موجود ہے، تاہم کسی بھی جرم کی سنگینی، عوامی دباؤ یا معاشرتی غصے کو منصفانہ عدالتی کارروائی کے بنیادی اصولوں پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 9 زندگی اور آزادی کے تحفظ، آرٹیکل 10 گرفتاری اور حراست سے متعلق قانونی ضمانتوں، آرٹیکل 10-A منصفانہ ٹرائل اور قانونی طریقۂ کار کے حق، جبکہ آرٹیکل 14 انسانی وقار کے احترام سے متعلق ہے۔
ان آئینی ضمانتوں کا تقاضا ہے کہ سزائے موت کے مقدمات میں شواہد کی غیر جانب دارانہ جانچ، ملزم کو مؤثر قانونی معاونت، صفائی کا مناسب موقع، استغاثہ کے شواہد پر جرح اور عدالتی فیصلے میں معقول وجوہات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اسی طرح قانون کے مطابق اپیل اور نظرثانی کے دستیاب حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
انصاف کا معیار محض یہ نہیں کہ کسی ملزم کو سزا سنا دی گئی، بلکہ یہ بھی ہے کہ سزا تک پہنچنے کا پورا عمل قانون، قابلِ اعتماد شواہد اور منصفانہ عدالتی اصولوں کے مطابق مکمل ہوا یا نہیں۔
غلط عدالتی فیصلے کا ناقابلِ تلافی خطرہ
عدالتی نظام انسانی اداروں پر مشتمل ہے، اس لیے غلط شناخت، ناقص تفتیش، متضاد بیانات، دباؤ کے تحت اعترافِ جرم، کمزور قانونی دفاع یا شواہد کی غلط تشریح جیسے عوامل کسی مقدمے کے نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اگر کسی بے گناہ شخص کو قید کی سزا ہو جائے تو بعض صورتوں میں بعد ازاں اس کی رہائی اور قانونی داد رسی ممکن ہوتی ہے، لیکن اگر اسے پھانسی دے دی جائے تو غلط فیصلے کی اصلاح ناممکن ہو جاتی ہے۔
اسی لیے سزائے موت کے مقدمات میں شواہد کے اعلیٰ معیار، شفاف تفتیش، آزاد عدلیہ اور مؤثر قانونی دفاع کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف جرم ثابت کرنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ملے اور جرائم کے متاثرین انصاف سے محروم نہ رہیں۔
جرائم کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کے حقوق بھی اہم
سزائے موت کے خلاف عالمی دن کا مقصد جرائم کے متاثرین یا ان کے اہلِ خانہ کے دکھ اور انصاف کے حق کو نظرانداز کرنا نہیں۔ قتل، دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم سے متاثرہ خاندان سچائی، تحفظ، مؤثر قانونی کارروائی اور انصاف کے مستحق ہیں۔
تاہم متاثرین کے حقوق کا تحفظ اور سزائے موت پر نظرثانی کو ایک دوسرے کی ضد نہیں سمجھنا چاہیے۔ ریاست ایسا نظام قائم کر سکتی ہے جو متاثرین اور ان کے خاندانوں کو قانونی معاونت، نفسیاتی و سماجی مدد، قانون کے مطابق معاوضے اور مقدمات کی مؤثر پیروی فراہم کرے، جبکہ سزائے موت کے جواز اور اس کے متبادل پر بھی سنجیدہ غور کیا جائے۔
ایک مؤثر نظامِ انصاف کے لیے ضروری ہے کہ متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملزمان کے قانونی حقوق اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کا بھی احترام کیا جائے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کا کردار
انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا، صحافیوں، اساتذہ، طلبہ اور سول سوسائٹی کا کردار سزائے موت سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے میں اہم ہے۔ اس موضوع پر جذباتی نعروں کے بجائے تحقیق، قانون، شواہد اور انسانی وقار کی بنیاد پر مکالمے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں سزائے موت کے مقدمات میں منصفانہ ٹرائل اور مؤثر قانونی دفاع کو یقینی بنانا، جبری اعترافِ جرم اور ناقص تفتیش کے خطرات کا جائزہ لینا، متاثرین اور سزائے موت پانے والے افراد کے خاندانوں کے حقوق کو تسلیم کرنا اور سزائے موت کے استعمال سے متعلق قابلِ تصدیق اعدادوشمار مرتب کرنا اہم اقدامات ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ جرائم کی روک تھام پر سزائے موت کے اثرات، اس کے متبادل اور سزائے موت کے خاتمے یا پھانسیوں پر پابندی کے امکانات پر بھی قومی سطح پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبات
سزائے موت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر حکومتِ پاکستان، پارلیمان، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ:
- سزائے موت کے مقدمات میں آئینی ضمانتوں، منصفانہ ٹرائل اور مؤثر قانونی دفاع کے حق پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
- تشدد، جبری اعترافِ جرم اور غیر قانونی تفتیش کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔
- قابلِ اعتماد شواہد، شفاف عدالتی کارروائی اور اپیل و نظرثانی کے قانونی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
- سزائے موت کے استعمال اور اس کے عدالتی نتائج سے متعلق جامع، قابلِ تصدیق اور عوامی طور پر دستیاب اعدادوشمار مرتب کیے جائیں۔
- سزائے موت کے خاتمے اور پھانسیوں پر پابندی کے امکانات پر قومی سطح پر سنجیدہ مکالمہ شروع کیا جائے۔
- جرائم کے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے قانونی، سماجی اور نفسیاتی معاونت کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔
انصاف کا تقاضا قانون اور انسانی وقار کا تحفظ
سزائے موت کے خلاف عالمی دن محض ایک رسمی موقع نہیں، بلکہ ریاست، عدلیہ اور معاشرے کے لیے اپنے نظامِ انصاف کا جائزہ لینے کا اہم موقع ہے۔ ایک منصفانہ معاشرے کی بنیاد قانون کی بالادستی، شفاف عدالتی کارروائی، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ پر قائم ہوتی ہے۔
جرائم کی مذمت، متاثرین سے یکجہتی اور مجرموں کا احتساب انصاف کے بنیادی تقاضے ہیں، لیکن اس عمل میں کسی بے گناہ کی جان ضائع ہونے کے ناقابلِ تلافی خطرے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انسانی حقوق کا تقاضا ہے کہ انصاف کو انتقام کے بجائے سچائی، قانون، جواب دہی اور انسانی وقار کی بنیاد پر استوار کیا جائے۔ سزائے موت کے خاتمے کی عالمی کوششوں، منصفانہ ٹرائل کے تحفظ اور انسانی زندگی کے احترام پر سنجیدہ مکالمہ اسی مقصد کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
