پشاور: ٹرانس پشاور نے بی آر ٹی کے تمام ذو کارڈز کی نادرا کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق اور رجسٹریشن لازمی قرار دے دی ہے۔ کارڈز کی رجسٹریشن کا عمل 15 اکتوبر 2026 سے شروع ہوگا، جبکہ اس کی آخری تاریخ 31 دسمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق یکم جنوری 2027 سے غیر رجسٹرڈ ذو کارڈز بلاک کر دیے جائیں گے، جس کے بعد مسافر ان کارڈز کے ذریعے بی آر ٹی سروس استعمال نہیں کر سکیں گے۔

رجسٹریشن کہاں اور کیسے ہوگی؟

ٹرانس پشاور کے مطابق ذو کارڈز کی رجسٹریشن تمام بی آر ٹی اسٹیشنز کے ٹکٹ کاؤنٹرز پر اسٹیشن کے اوقاتِ کار کے دوران کی جا سکے گی۔ بالغ مسافروں کو رجسٹریشن کے لیے اپنا اصل قومی شناختی کارڈ اور ذو کارڈ ساتھ لانا ہوگا۔ رجسٹریشن فیس 10 روپے مقرر کی گئی ہے۔

18 سال سے کم عمر بچوں کے کارڈز کی رجسٹریشن

18 سال سے کم عمر بچوں کے ذو کارڈز کی رجسٹریشن ب فارم یا والدین یا سرپرست کے قومی شناختی کارڈ کے ذریعے کی جا سکے گی۔

ب فارم کے ذریعے رجسٹریشن کے لیے بچے کا ب فارم اور ذو کارڈ پیش کرنا ضروری ہوگا، جبکہ بچے کی بائیومیٹرک تصدیق بھی کی جائے گی۔

اسی طرح والدین یا سرپرست کے قومی شناختی کارڈ کے ذریعے رجسٹریشن کے لیے متعلقہ بالغ فرد کا اصل شناختی کارڈ، بچے کا ذو کارڈ اور بائیومیٹرک تصدیق کے لیے والد، والدہ یا سرپرست کی موجودگی لازمی ہوگی۔

مسافروں کو آخری تاریخ سے پہلے رجسٹریشن کی ہدایت

ٹرانس پشاور کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سید مرتضیٰ اصغر بخاری نے مسافروں پر زور دیا ہے کہ وہ 31 دسمبر 2026 سے پہلے اپنے ذو کارڈز کی رجسٹریشن مکمل کروا لیں تاکہ نئے سال میں سفر کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

دوسری جانب غیر ملکی مسافر ذو پشاور میں سفر کے لیے ذو ایپ یا سنگل جرنی ٹکٹ استعمال کر سکتے ہیں۔