جمرود: جمرود پریس کلب میں لینڈ سیٹلمنٹ اور اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے صحافیوں کے لیے آگاہی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں لینڈ سیٹلمنٹ حکام نے جاری عمل، اس کے طریقۂ کار، فوائد اور عوام کے لیے دستیاب سہولیات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
پروجیکٹ ڈائریکٹر ایس ڈی سی ضم اضلاع واصل خٹک نے سینئر منیجر آپریشنز امتیاز خان اور تحصیلدار جاوید خان کے ہمراہ صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں لینڈ سیٹلمنٹ کا عمل 2021 سے جاری ہے، جس کا مقصد پہلی مرتبہ زمینوں کا باقاعدہ، مستند اور ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کرنا ہے۔
حکام کے مطابق ضلع خیبر میں اب تک تقریباً 1 لاکھ 47 ہزار شجرہ نسب درج کیے جا چکے ہیں، جبکہ 26 موضع جات میں شجرہ نسب کی تیاری کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔
جمرود میں جغرافیائی معلوماتی نظام اور مشین بیسڈ پیمائش شروع
لینڈ سیٹلمنٹ حکام کے مطابق جمرود کے مختلف موضع جات میں اب زمین کی مشین بیسڈ اور جغرافیائی معلوماتی نظام بیسڈ پیمائش کا عملی مرحلہ بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ اس عمل کے ذریعے زمین کی درست پیمائش، حدود اور ملکیتی حقوق کا تعین کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ شجرہ نسب کی بنیاد پر ہر فرد اور خاندان کے حصے کی درست نشاندہی بھی ریکارڈ کا حصہ بنائی جائے گی، جس سے مستقبل میں ملکیتی تنازعات کے امکانات کم کرنے میں مدد ملے گی۔
زمین کا ریکارڈ موبائل اور انٹرنیٹ پر دستیاب ہوگا
بریفنگ میں بتایا گیا کہ لینڈ سیٹلمنٹ مکمل ہونے کے بعد زمین کا ریکارڈ ڈیجیٹل نظام میں محفوظ کیا جائے گا، جس تک مستقبل میں موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے رسائی ممکن ہوگی۔
حکام کے مطابق ڈیجیٹل نظام سے زمین کی ملکیت، حدود اور قبضے سے متعلق تنازعات میں کمی آئے گی جبکہ زمین کی خرید و فروخت، وراثت، انتقال اور بینک قرضوں سمیت دیگر معاملات میں بھی شہریوں کو سہولت حاصل ہوگی۔
متنازعہ اراضی کے لیے باقاعدہ طریقۂ کار
حکام نے بتایا کہ لینڈ سیٹلمنٹ کے دوران متنازعہ اراضی کے معاملات کے لیے بھی باقاعدہ طریقۂ کار اختیار کیا جا رہا ہے۔
اگر کسی متنازعہ زمین کے حوالے سے عدالت کا فیصلہ موجود ہو یا فریقین باہمی رضامندی سے تنازع حل کرلیں تو عدالتی فیصلے یا باہمی معاہدے کے مطابق ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ تاہم زیرِ تنازع زمین کو حتمی طور پر ریکارڈ میں شامل نہیں کیا جائے گا جب تک تنازع حل نہ ہوجائے۔
حکام کے مطابق زمین کی خرید و فروخت سے متعلق سابقہ رجسٹریاں، انتقالات، اسٹامپ پیپرز اور دیگر دستیاب دستاویزات بھی مدنظر رکھی جائیں گی تاکہ زمینی حقائق اور شجرہ نسب کے مطابق درست ریکارڈ مرتب کیا جاسکے۔
حتمی ریکارڈ کی تیاری اور تصدیق تک شہریوں کو ضروری اصلاح اور اعتراض کا موقع بھی فراہم کیا جائے گا۔
وراثت اور بینک قرضوں میں بھی سہولت متوقع
لینڈ سیٹلمنٹ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ شہریوں کے ملکیتی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ زمین کی وراثتی اور قانونی منتقلی کو بھی شفاف اور آسان بنائے گا۔
حکام کے مطابق مستقبل میں نئی نسلوں کو زمین کی منتقلی کا مستند ریکارڈ دستیاب ہوگا، جبکہ زمین کو بطور اثاثہ استعمال کرتے ہوئے زرعی یا دیگر قرضوں کے حصول میں بھی شہریوں کو سہولت مل سکے گی۔
زرعی ترقی اور منصوبہ بندی میں مدد ملے گی
حکام کے مطابق اراضی کا درست اور مستند ریکارڈ زرعی ترقی اور بہتر منصوبہ بندی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
درست ریکارڈ کی بنیاد پر زرعی مشینری، بیج، قرضوں، حکومتی سہولیات اور مختلف ترقیاتی اسکیموں تک مستحق افراد کی رسائی آسان بنائی جاسکے گی۔ اسی طرح شہری اور دیہی علاقوں میں مستقبل کی ترقی اور زمین کے مؤثر استعمال کی منصوبہ بندی بھی بہتر انداز میں ممکن ہوگی۔
عوامی آگاہی کے لیے سیشنز کا سلسلہ جاری
بریفنگ میں بتایا گیا کہ لینڈ سیٹلمنٹ کے حوالے سے عوامی آگاہی کے لیے صحافیوں، وکلا، تاجروں، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر آگاہی سیشنز کا سلسلہ جاری ہے۔
حکام کے مطابق جغرافیائی معلوماتی نظام بیسڈ پیمائش کے دوران متعلقہ ٹیمیں مختلف علاقوں میں موجود رہیں گی اور شہریوں کو ریکارڈ، پیمائش اور اعتراضات سے متعلق رہنمائی فراہم کریں گی۔
جمرود میں لینڈ سیٹلمنٹ کا دفتر انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم ہے، جہاں عوام کی رہنمائی کے لیے متعلقہ عملہ موجود ہے۔ مختلف موضع جات میں ریونیو اور سیٹلمنٹ عملہ روزانہ کی بنیاد پر کام کر رہا ہے، جبکہ عوام کی سہولت کے لیے رابطہ نمبرز اور ہیلپ لائن بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
شہریوں کو ریکارڈ کی جانچ کا موقع
حکام کے مطابق جمرود کے تمام موضع جات کے لیے باقاعدہ شیڈول مرتب کیا گیا ہے اور اسی کے مطابق مرحلہ وار کام جاری ہے۔
شجرہ نسب کی تیاری مکمل ہونے کے بعد بھی حتمی ریکارڈ مرتب ہونے تک شہری اپنے کوائف اور زمین سے متعلق معلومات کی جانچ، تصدیق اور ضروری اصلاح کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کرسکتے ہیں۔
حکام کے مطابق سیٹلمنٹ ٹیمیں گھر گھر جاکر بھی معلومات حاصل کر رہی ہیں جبکہ ریکارڈ کی نمائش کے ذریعے شہریوں کو اپنے ملکیتی کوائف اور شجرہ نسب کی جانچ کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عوام سے تعاون کی اپیل
لینڈ سیٹلمنٹ حکام نے عوام پر زور دیا کہ وہ جاری عمل میں بھرپور تعاون کریں، اپنی زمین سے متعلق دستاویزات اور ملکیتی ریکارڈ کی جانچ کریں اور کسی بھی اعتراض یا مسئلے کی صورت میں بروقت متعلقہ لینڈ سیٹلمنٹ دفتر یا ہیلپ لائن سے رابطہ کریں تاکہ حتمی ڈیجیٹل ریکارڈ میں درست معلومات شامل کی جاسکیں۔
حکام کے مطابق زمین کا مستند، شفاف اور ڈیجیٹل ریکارڈ نہ صرف شہریوں کے مالکانہ حقوق کے تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ معاشی ترقی، زرعی بہتری، شفاف وراثتی نظام، زمین سے متعلق تنازعات میں کمی اور مستقبل کی مؤثر حکومتی منصوبہ بندی میں بھی بنیادی کردار ادا کرے گا۔
