خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے تدریسی و طبی مرکز لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور سے نومولود بچے کے مبینہ اغوا کا واقعہ سامنے آنے کے بعد ہسپتالوں میں نومولود بچوں کی سیکیورٹی، وزیٹرز کی نگرانی اور والدین کی ذمہ داریوں سے متعلق اہم سوالات اٹھ گئے ہیں۔

واقعے کی مبینہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے، تاہم فوٹیج سمیت واقعے کے تمام پہلوؤں کی حتمی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔

خاندان کے ساتھ موجود خاتون مبینہ طور پر بچے کو لے گئی

ہسپتال ترجمان کے مطابق دو روز قبل شبقدر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو زچگی کے لیے لیبر روم میں داخل کیا گیا، جہاں اس کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی۔ اہل خانہ کے ساتھ ایک خاتون بھی موجود تھی جو مریضہ اور نومولود کی دیکھ بھال میں مدد کر رہی تھی۔

ترجمان کے مطابق مذکورہ خاتون خاندان کے ساتھ گھل مل گئی تھی اور اس دوران اس نے متعدد مرتبہ نومولود کو گود میں لیا۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بعد ازاں یہی خاتون مبینہ طور پر نومولود کو اپنے ساتھ لے کر ہسپتال سے چلی گئی۔ ابتدائی طور پر وہ وارڈ میں اس انداز سے موجود رہی کہ بظاہر وہ نومولود کے خاندان کی قریبی رشتہ دار یا جاننے والی معلوم ہوتی تھی۔

واقعے کے بعد بنیادی سوال یہ سامنے آتا ہے کہ ایک غیر متعلقہ خاتون نومولود تک بار بار رسائی حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوئی اور مبینہ طور پر بچے کو ہسپتال سے باہر لے جانے میں بھی کامیاب ہوگئی؟

والدین کی ذمہ داری یا ہسپتال کی سیکیورٹی؟

ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ لیبر روم کا عملہ ہر موجود شخص کو خاندان کا فرد سمجھ کر اس کی شناخت کی تصدیق نہیں کرسکتا، جبکہ نومولود کی حفاظت میں والدین اور قریبی اہل خانہ کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد اسے متعلقہ دستاویزات اور ضابطے کے مطابق والدین کے حوالے کیا گیا تھا، اس لیے والدین پر بھی لازم ہے کہ وہ نومولود کو غیر متعلقہ افراد کے حوالے کرنے سے گریز کریں اور اس کی نگرانی یقینی بنائیں۔

تاہم واقعے نے ہسپتال کے حفاظتی نظام سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا نومولود بچوں کے لیے ایسا مؤثر نظام موجود ہے جو والدین یا مجاز عملے کی اجازت کے بغیر کسی غیر متعلقہ شخص کو بچے تک رسائی حاصل کرنے یا اسے وارڈ سے باہر لے جانے سے روک سکے۔

نومولود بچوں کی حفاظت صرف والدین ہی نہیں بلکہ والدین، طبی عملے، سیکیورٹی اہلکاروں اور ہسپتال انتظامیہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

نومولود بچوں کی شناخت اور نگرانی کا مؤثر نظام ضروری

نومولود بچوں کے اغوا کے واقعات کی روک تھام کے لیے ہسپتالوں میں داخلے اور اخراج کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

خصوصاً لیبر روم، نرسری اور زچہ و بچہ وارڈز میں صرف مجاز افراد کی رسائی، وزیٹرز کی شناخت، نومولود کی شناختی دستاویز یا سیکیورٹی بینڈ، ماں اور بچے کی شناخت کی تصدیق، سی سی ٹی وی کی مؤثر نگرانی اور بچے کو وارڈ سے باہر لے جانے کے لیے واضح طریقہ کار ضروری ہے۔

سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی اس حوالے سے باقاعدہ تربیت دی جانی چاہیے کہ نومولود بچے کو لے جانے والے شخص کی شناخت اور بچے سے اس کے تعلق کی تصدیق کس طرح کی جائے۔ محض یہ فرض کرلینا کہ گود میں بچہ اٹھانے والا شخص لازماً اس کا والدین یا قریبی رشتہ دار ہے، مؤثر حفاظتی نظام کا متبادل نہیں ہوسکتا۔

پولیس اور ہسپتال کی تحقیقات اہم

پولیس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، جبکہ ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے بھی انکوائری کمیٹی قائم کیے جانے کی اطلاع ہے۔

تحقیقات میں مبینہ اغوا کی مکمل صورتحال، خاتون کی شناخت، سی سی ٹی وی فوٹیج، ہسپتال کے داخلی و خارجی راستوں، متعلقہ عملے کے کردار، والدین اور دیگر افراد کے بیانات سمیت سیکیورٹی پروٹوکول کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

اگر تحقیقات میں کسی فرد یا ادارے کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہیے۔ تاہم تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی فرد یا ادارے کو قصوروار قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔

یہ واقعہ محض ایک نومولود کے مبینہ اغوا تک محدود نہیں بلکہ ہسپتالوں میں بچوں کی حفاظت کے موجودہ نظام کا بھی امتحان ہے۔ والدین کی ذمہ داری اپنی جگہ اہم ہے، تاہم ہسپتالوں میں ایسا مؤثر بچوں کے تحفظ اور نومولود سیکیورٹی نظام بھی ہونا چاہیے جس کے باعث کسی غیر متعلقہ شخص کے لیے نومولود تک رسائی حاصل کرنا یا اسے ہسپتال سے باہر لے جانا ممکن نہ ہو۔

نومولود اپنی حفاظت خود نہیں کرسکتا، اس لیے اس کی حفاظت کے لیے مضبوط اور واضح نظام والدین کے اعتماد کے ساتھ ساتھ ہسپتال کی ذمہ داریوں کو بھی مؤثر بناتا ہے۔