دیر لوئر میں کم سن بچے سے بدفعلی اور بلیک میلنگ کے مقدمے میں ملزم کو مجموعی طور پر 16 سال قید اور 30 لاکھ 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ یہ فیصلہ اس بات کی ایک اہم مثال ہے کہ مؤثر تفتیش، ٹھوس شواہد اور بروقت عدالتی کارروائی کے ذریعے بچوں کے خلاف جرائم کے مرتکبین کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکتا ہے۔

تاہم ایک مقدمے کا فیصلہ اس وسیع مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک بڑے قومی بحران کی جانب توجہ دلاتا ہے۔ بچوں کے خلاف جنسی تشدد اور استحصال کے واقعات پاکستان میں ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے محض سزاؤں میں اضافہ کافی نہیں۔

رپورٹ شدہ واقعات میں تشویشناک اضافہ

پاکستان میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے دستیاب اعدادوشمار صورتحال کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔ ساحل تنظیم کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں بچوں کے خلاف 3,630 رپورٹ شدہ واقعات سامنے آئے، جو 2024 کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ تھے۔ ان میں 2,003 واقعات بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق تھے۔

رپورٹ کے مطابق 596 سوڈومی، 522 ریپ، 195 اقدامِ ریپ، 130 گینگ سوڈومی اور 108 گینگ ریپ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

ان اعدادوشمار کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم میں صرف لڑکیاں ہی متاثر نہیں ہوتیں۔ 2025 کے مجموعی رپورٹ شدہ کیسز میں 53 فیصد متاثرین لڑکیاں جبکہ 47 فیصد لڑکے تھے۔ 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے زیادہ خطرے سے دوچار نظر آئے۔

مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ بیشتر واقعات میں مبینہ ملزم کوئی اجنبی نہیں بلکہ بچے کا جاننے والا شخص تھا۔

رپورٹ نہ ہونے والے واقعات کا سوال

یہاں ایک بنیادی احتیاط ضروری ہے۔ مذکورہ اعدادوشمار صرف رپورٹ شدہ کیسز پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں پاکستان میں بچوں کے جنسی استحصال کے مکمل واقعات کی تعداد قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سماجی بدنامی، خوف، خاندان کا دباؤ، ملزم کا بااثر ہونا اور پولیس یا عدالتی نظام تک رسائی میں مشکلات ایسے کئی عوامل ہیں جو متعدد واقعات کو رپورٹ ہونے سے پہلے ہی خاموش کر دیتے ہیں۔

اس لیے اصل صورتحال دستیاب اعدادوشمار سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔

خطرہ اب آن لائن دنیا میں بھی موجود ہے

بچوں کے خلاف جنسی استحصال کا خطرہ اب صرف گھروں، مدارس، اسکولوں یا گلی محلوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ڈیجیٹل دنیا بھی بچوں کے لیے نئے خطرات پیدا کر رہی ہے۔

ستمبر 2026 میں یونیسیف کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 6 فیصد بچوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کی کم از کم ایک شکل کا سامنا کیا۔ تحقیق نے اس تعداد کو تقریباً 15 لاکھ بچوں کے برابر قرار دیا۔

آن لائن گرومنگ، جنسی بلیک میلنگ، سیکسٹورشن اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جنسی مواد ایسے خطرات میں شامل ہیں جو روایتی حفاظتی نظام کے لیے بھی ایک نیا چیلنج ہیں۔

2026 کے اعدادوشمار بھی تشویشناک

2026 کے ابتدائی چھ ماہ کے اعدادوشمار بھی صورتحال میں کسی نمایاں بہتری کی نشاندہی نہیں کرتے۔ ساحل تنظیم کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران 1,015 بچوں کے جنسی استحصال کے کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر بچوں کے خلاف 1,914 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

یہ اعدادوشمار اس بات کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں کہ بچوں کے تحفظ کو محض کسی ایک ادارے یا شعبے کی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے ایک جامع قومی ترجیح بنایا جائے۔

اصل مسئلہ سزا نہیں، یقینی اور محفوظ انصاف ہے

بچوں کے خلاف جنسی جرائم سے نمٹنے میں سخت سزا اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اصل چیلنج یقینی، تیز اور بچوں کے لیے محفوظ انصاف کی فراہمی ہے۔

قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق کم شرحِ سزا کی وجوہ میں تفتیش، شواہد اکٹھے کرنے، استغاثہ، مقدمات کے انتظام اور عدالتی تاخیر سے متعلق کمزوریاں شامل ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون میں موجود سزاؤں کے ساتھ ساتھ پورے نظامِ انصاف کو مؤثر بنانا بھی ضروری ہے۔

ہر ضلع میں بچوں کے لیے محفوظ نظام کی ضرورت

دیر لوئر کا فیصلہ ایک مثبت مثال ضرور ہے، لیکن اسے پورے نظام کی کامیابی کا آخری ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ضلع میں بچوں کے لیے دوستانہ پولیس اور عدالتی طریقۂ کار، تربیت یافتہ تفتیش کار، فوری فرانزک سہولیات، قانونی و نفسیاتی معاونت، محفوظ رپورٹنگ کا نظام اور مؤثر فالو اَپ یقینی بنایا جائے۔

بچوں کے تحفظ کے لیے والدین، تعلیمی اداروں، مذہبی اداروں، پولیس، عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی سمیت تمام متعلقہ اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ خصوصاً ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے والدین اور اساتذہ کی آگاہی بھی ناگزیر ہے۔

اصل کامیابی کیا ہے؟

بچے کو انصاف صرف اس وقت نہیں ملنا چاہیے جب کوئی مقدمہ عدالت تک پہنچ جائے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ استحصال سے پہلے تحفظ، خطرے یا انکشاف کے بعد فوری حفاظت، اور شکایت کے بعد قابلِ اعتماد انصاف ہر بچے کو دستیاب ہو۔

دیر لوئر کا فیصلہ قانون کی عمل داری کی ایک مثال ہے، لیکن اصل قومی امتحان یہ ہے کہ ایسے مقدمات کم سے کم ہوں، متاثرہ بچے بروقت محفوظ کیے جائیں اور ہر بچے کو بلاامتیاز ایک ایسا نظام میسر ہو جہاں وہ خوف کے بغیر اپنی شکایت بیان کر سکے اور انصاف حاصل کر سکے۔